انٹر نیشنل

کون بنے گا اسرائیل کا اگلا وزیرِاعظم ؟نئی حکومت کیلئے تیاریاں تیز

نئی دہلی: اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج سامنے آ چکے ہیں اور نئی حکومت تشکیل دینے کی دوڑ تیز ہو گئی ہے۔ اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے اور انہیں صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کر دیا ہے۔

 

انتخابی کمیٹی کو دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا حالانکہ وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔عام انتخابات کے نتائج چہارشنبہ کے روز صدر کے حوالے کیے گئے جنہیں انہوں نے قبول کر لیا ہے۔ اب وہ حکومت سازی کے لیے سب سے مضبوط راستہ رکھنے والے امیدوار کو نامزد کرنے سے پہلے مختلف سیاسی اتحادوں کے رہنماؤں سے دو روز تک مشاورت کریں گے۔

 

نیتن یاہو کی قیادت میں قائم اتحاد نے 53 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ ان کے مخالف گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملی ہیں۔ دوسری جانب عرب قیادت والی جماعتوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) میں 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر کے دفتر میں سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

 

یش پارٹی کے سربراہ آئزن کوٹ اپنی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کر سکتے ہیں۔ ان کے چیلنج بلاک کے پاس مجموعی طور پر 48 نشستیں ہیں۔ ایسے میں حکومت بنانے کے لیے آئزن کوٹ کو بطور امیدوار نامزد کرنے کی سفارش کی جا سکتی ہے۔دوسری جانب توقع ہے کہ نیتن یاہو کی حمایت کرنے والی پانچ جماعتوں میں سے چار ان کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔

 

یہ چاروں جماعتیں انتخابی مہم کے دوران بھی ان کے ساتھ تھیں اور انہیں مجموعی طور پر 46 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔تین جماعتوں نے ابھی تک اپنا فیصلہ واضح نہیں کیا۔ ان میں عرب قیادت والی جماعت رام، جوائنٹ لسٹ اور یونائیٹڈ تورہ جوڈازم شامل ہیں۔یو جے ٹی جماعت نیتن یاہو کو دوبارہ وزیرِاعظم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے،کیونکہ اس کے سات ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔

 

یہ جماعت نیتن یاہو کے حامی اتحاد کا حصہ ہے تاہم اطلاعات کے مطابق اس نے اب تک کسی بھی امیدوار کو وزیرِاعظم نامزد کرنے کی سفارش کرنے سے گریز کیا ہے۔البتہ خبریں ہیں کہ اس جماعت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اگلی حکومت کی تشکیل کے لیے نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کرے۔

 

تل ابیب کے چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی ٹیم یونائیٹڈ تورہ جوڈازم کے نمائندوں سے بات چیت کر رہی ہے تاکہ حریدی دھڑے کی حمایت حاصل کی جا سکے تاہم لیکوڈ پارٹی کے پاس وقت کم ہو سکتا ہے، کیونکہ مختلف سیاسی دھڑوں اور صدر کے درمیان مشاورت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔اگر نیتن یاہو کی ٹیم UJT کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور اس کی جانب سے نیتن یاہو کو وزیرِاعظم نامزد کرنے کی سفارش کر دی جاتی ہے

 

تو اس صورت میں آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد کو عرب قیادت والی جماعتوں سے حمایت حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔اس وقت کسی بھی سیاسی اتحاد کے پاس واضح اکثریت موجود نہیں ہے۔ حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔

 

تاہم صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا ہے کہ دونوں فریقوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ہر وعدہ اور ہر یقین دہانی پوری کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے انہیں نئے انتخابات سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

 

انتخابی کمیٹی سے نتائج باضابطہ طور پر موصول ہونے کے بعد صدر ہرزوگ نے کہا”موجودہ صورتحال میں انتخابات کے بعد کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا ہے۔ میں تمام فریقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جدت، تخلیقی صلاحیت

 

ہمت اور خیرسگالی کا مظاہرہ کریں تاکہ ریاستِ اسرائیل ایک فاتح کے طور پر ابھر سکے۔”

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button