مضامین

یومِ آزادی ہند۔ اتحاد، امید اور ترقی کا پیغام

محمد قطب الدین ابو شجاع

 یم ڈی پی ایچ ڈی 

شکاگو امریکہ 

 

میرے عزیز ہم وطنو، بالخصوص ہندوستان کے نوجوانو اور مسلمانو!آج یومِ آزادی کے مبارک موقع پر جب ہمارا ترنگا سربلند ہوتا ہے، تو ہمیں صرف آزادی کا جشن ہی نہیں منانا چاہیے بلکہ اُن عظیم قربانیوں کو بھی یاد کرنا چاہیے جن کے نتیجے میں ہمیں یہ آزادی نصیب ہوئی۔ اس جدوجہد میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام طبقات کے لوگوں نے اپنا خون، اپنی جوانیاں اور اپنی زندگیاں وطن پر نچھاور کیں۔

 

ہندوستان کسی ایک مذہب، ایک فرقے، ایک زبان یا ایک قوم کا نہیں—ہندوستان ہم سب کا ہے۔یہ سرزمین ہندو کی بھی ہے، مسلمان کی بھی، سکھ کی بھی، عیسائی کی بھی، دلت، آدیواسی اور ہر اُس شہری کی ہے جو ہندوستان کو اپنا وطن کہتا ہے۔ ہمارے آئین نے تمام شہریوں کو برابری، آزادی اور عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا ہے۔ یہی ہندوستان کی روح ہے اور یہی ہماری اصل طاقت ہے۔

 

آج میں بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں سے کہنا چاہتا ہوں: مایوس نہ ہوں، خوف زدہ نہ ہوں، اور اپنے آپ کو اس ملک سے الگ نہ سمجھیں۔ ہندوستان آپ کا بھی اتنا ہی وطن ہے جتنا کسی اور ہندوستانی کا۔ آپ کے آباؤ اجداد کی محنت، قربانی، علم، تہذیب، فن، ادب اور خون اس سرزمین کی تاریخ میں شامل ہے۔

 

مرحوم راحت اندوری صاحب نے اسی حقیقت کو بڑے پُراثر انداز میں کہا تھا:

"سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے”

 

یہ محض ایک شعر نہیں، بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تاریخ اور مشترکہ شہریت کا ایک طاقتور پیغام ہے لیکن صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کافی نہیں۔ ہمیں اپنی ذمہ داری بھی پوری کرنی ہوگی۔ بالخصوص مسلم نوجوانوں سے میری درخواست ہے کہ تعلیم کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنائیں۔ جدید سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، طب، انجینئرنگ، قانون، صحافت، تجارت اور سول سروسز میں آگے بڑھیں۔ بہترین اسکول، کالج، اسپتال، کاروبار اور فلاحی ادارے قائم کریں۔ بیٹیوں کی تعلیم کو اولین ترجیح دیں۔ اپنے کردار، دیانت، قابلیت اور خدمت سے ثابت کریں کہ ہم ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں برابر کے شریک ہیں۔

 

اپنی توانائی نفرت اور سوشل میڈیا کی لڑائیوں میں ضائع نہ کریں۔ جھوٹی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے تحقیق کریں۔ اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں۔ اپنے ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر ہم وطن بھائی بہنوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کریں۔ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں، کردار، علم، مکالمے اور خدمت سے دیں اور یہی پیغام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام ہندوستانی نوجوانوں کے لیے ہے۔ ہماری اصل جنگ ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہونی چاہیے۔ ہماری جنگ غربت، جہالت، بے روزگاری، بیماری، بدعنوانی، ناانصافی اور نفرت کے خلاف ہونی چاہیے۔

 

ایک منقسم اور متعصب ہندوستان اپنی توانائی آپس کی لڑائیوں میں ضائع کرے گا، لیکن ایک متحد ہندوستان دنیا کی عظیم ترین طاقتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ہمیں ایسا ہندوستان تعمیر کرنا ہے جہاں مندر کی گھنٹی، مسجد کی اذان، گرجا گھر کی دعا اور گوردوارے کی عبادت ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہ ہوں بلکہ ہماری خوبصورت تہذیبی رنگا رنگی کی علامت ہوں۔ جہاں کسی بچے کا مستقبل اُس کے نام، مذہب، ذات یا خاندان سے نہیں بلکہ اُس کی تعلیم، کردار، محنت اور صلاحیت سے طے ہو۔

 

میرے نوجوان دوستو! آپ صرف ہندوستان کا مستقبل نہیں، ہندوستان کے مستقبل کے معمار ہیں۔

خوف کی بجائے عزم و ہمت کو اپنائیں

مایوسی کے بجائے امید کو اپنائیے۔

نفرت کے بجائے محبت کو۔

تقسیم کے بجائے اتحاد کو۔

جہالت کے بجائے علم کو۔

شکایت کے بجائے خدمت اور تعمیر کو۔

 

آئیے اس یومِ آزادی پر عہد کریں کہ ہم ہندوستان کو پیچھے لے جانے والی نفرت اور فرقہ واریت کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ اسے تعلیم یافتہ، سائنسی، جمہوری، پُرامن، متحد، خوشحال اور ترقی پسند ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

 

مذہب ہمارا ذاتی عقیدہ ہو سکتا ہے، مگر ہندوستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے۔

تنوع ہماری خوبصورتی ہے۔

اتحاد ہماری طاقت ہے۔

نوجوان ہماری امید ہیں۔

اور انسانیت کی خدمت ہماری سب سے بڑی حب الوطنی ہے۔

 

آئیے ایسا ہندوستان بنائیں جس پر آنے والی نسلیں فخر کریں—جہاں Unity in Diversity صرف ایک نعرہ نہ ہو بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کی حقیقت بن جائے۔

 

ہندوستان ہم سب کا تھا، ہم سب کا ہے، اور ہم سب کا رہے گا۔

جئے ہند! 🇮🇳

یومِ آزادی مبارک!

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button