نیشنل

نیٹ پیپر لیک بیوٹیشین سمیت 3 خواتین گرفتار

 نئی دہلی: سی بی آئی کی جانب سے نیٹ یو جی یپر لیک معاملے کی تحقیقات کے دوران گزشتہ چند دنوں میں تین خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ تینوں خواتین پونے کی رہنے والی ہیں۔

 

ان پر الزام ہے کہ ان کا نیٹ پیپر لیک معاملے سے براہِ راست تعلق ہے اب تک کی تحقیقات میں سی بی آئی نے سب سے زیادہ گرفتاریاں مہاراشٹرا سے کی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حال ہی میں گرفتار کی گئی تینوں خواتین کے نام ایک جیسے ہیں منیشا واگھمارے، منیشا مندھارے اور منیشا ہولدار

 

ان تینوں پر مبینہ طور پر پیپر لیک میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ 46 سالہ بیوٹیشن منیشا واگھمارے کو 14 مئی کو گرفتار کیا گیا۔ سی بی آئی نے انہیں ایک “کامن لنک” قرار دیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے طلبہ کو ایک دوسری ملزمہ منیشا مندھارے سے ملوایا تھا، جو پہلے ہی گرفتار کی جا چکی ہیں۔ دونوں خواتین پونے کی ایک ہی ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہتی تھیں۔

 

منیشا واگھمارے پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے دوسرے ملزم دھننجے لوکھنڈے کو سوالیہ پرچہ فراہم کیا۔اس معاملے میں ایک اور گرفتار خاتون منیشا مندھارے ہیں جو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی مقرر کردہ ایکسپرٹ رہ چکی ہیں اور پونے کے ایک کالج میں سینئر بایولوجی ٹیچر تھیں۔ وہ 2002 سے کالج میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔

 

انہیں 16 مئی کو گرفتار کیا گیا۔ الزام ہے کہ وہ اپنے گھر پر خصوصی کوچنگ کلاسز چلاتی تھیں جہاں انہوں نے مبینہ طور پر نیٹ یو جی امتحان کے بوٹنی اور زولوجی کے سوالات لیک کیے۔تیسری گرفتار “منیشا” منیشا ہولدار ہیں جو کالج کی پرنسپل ہیں اور فزکس کی ٹیچر بھی رہ چکی ہیں۔ وہ 1992 میں اسکول سے وابستہ ہوئی تھیں اور دو ماہ سے بھی کم عرصے میں ریٹائر ہونے والی تھیں۔

 

سی بی آئی نے انہیں 22 مئی کو گرفتار کیا۔ این ٹی اے نے انہیں بھی ایکسپرٹ مقرر کیا تھا اور ان کے پاس نیٹ یو جی فزکس کے سوالیہ پرچے موجود تھے۔ الزام ہے کہ انہوں نے فزکس کے سوالات لیک کیے۔واضح رہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک معاملے میں پہلی گرفتاری بھی ناسک سے ہوئی تھی۔ 27 سالہ شبھم کھیرنار کو سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا۔

 

الزام ہے کہ اس نے 10 لاکھ روپے میں پیپر خریدا اور 15 لاکھ روپے میں فروخت کیا۔ یونیورسٹی کے مطابق کھیرنار ناشک میں ایک میڈیکل ایجوکیشن کنسلٹنسی فرم چلاتا تھا اور خود کو “ڈاکٹر” کہتا تھا،حالانکہ اس نے اپنی بی اے ایم ایس ڈگری مکمل نہیں کی تھی۔اس معاملے میں گرفتار ایک اور ملزم ابھیانگر کا 30 سالہ آیورویدک پریکٹیشنر دھننجے لوکھنڈے ہے۔ سی بی آئی کے مطابق اس نے منیشا واگھمارے سے سوالیہ پرچے حاصل کیے اور پھر وہ شبھم کھیرنار کو دیے۔

 

اسی طرح ایک کالج کے ریٹائرڈ کیمسٹری ٹیچر پرہلاد وٹھل کلکرنی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے پونے والے گھر میں کوچنگ سیشن منعقد کیےجہاں طلبہ کو مبینہ طور پر “لیک شدہ مواد” پڑھایا گیا۔ایک اور گرفتار ملزم شیوراج موٹےگاؤںکر ہے جو ایک کوچنگ سنٹر کا بانی ہے۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ وہ پی وی کلکرنی کا قریبی ساتھی تھا۔

 

اس کے ادارے اور گھر کی تلاشی کے دوران ایک کیمسٹری سوالیہ بینک ملا جس میں وہی سوالات موجود تھے جو نیٹ امتحان میں آئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button