نیشنل

"میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا”؛ چاندنی قریشی کی گرفتاری کے معاملے میں آیوش ملک کا ویڈیو بیان وائرل

لکھنو:  اتر پردیش کے ضلع شاملی میں مبینہ مذہب تبدیلی کے ایک معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ میڈیکل اسٹور مالک کے بیٹے آیوش ملک اور چاندنی قریشی سے متعلق تنازعہ میں پولیس نے شکایت کی بنیاد پر چاندنی قریشی اور ان کے والد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اس معاملے میں آیوش ملک کا ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے۔

 

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں آیوش ملک اپنی اہلیہ اور سسر کی گرفتاری کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے خاندان نے انہیں ہراساں کرنے کے لیے جھوٹا مقدمہ درج کروایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور اب وہ مسلمان ہیں۔ انھوں نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کافی جذباتی انداز میں کہا کہ الحمداللہ میں مسلمان ہوں.

 

دریں اثنا، شاملی کے دیانند نگر کے رہائشی دیوراج ملک نے پولیس میں درج شکایت میں الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے آیوش ملک کو منصوبہ بند طریقے سے محبت کے جال میں پھنسایا گیا اور بعد میں ان پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ شکایت کے مطابق قاضی واڑہ کی رہائشی چاندنی قریشی اور ان کے خاندان کے کئی افراد اس مبینہ سازش میں شامل تھے۔ پولیس نے اس معاملے میں چاندنی سمیت 10 افراد کو نامزد کیا ہے۔

 

ایف آئی آر میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ تقریباً چار سال قبل آیوش اور چاندنی کے تعلقات کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک مبینہ نکاح نامہ تیار کیا گیا تھا۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ ملزمین نے آیوش پر ذہنی دباؤ ڈالا، خاندان کے دیگر افراد کو بھی مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور مخالفت کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ اس کے علاوہ آیوش کی آمدنی اور خاندانی جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوشش کے الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button