نیشنل

دہلی ہائی کورٹ نے فرانس میں احتجاجی مظاہروں کی مثال دے کر بغیر اجازت احتجاج پر خبردار کردیا

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کاکروچ جنتا پارٹی کے قائدین سورَو داس اور اشوتوش رانکا کی گرفتاری سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران اہم ریمارکس کرتے ہوئے واضح کیا کہ پولیس کی پیشگی اجازت کے بغیر احتجاجی مظاہروں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 

عدالت نے کہا کہ بغیر اجازت احتجاج کے دوران طلبہ کی آڑ میں ملک مخالف عناصر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ اس ضمن میں عدالت نے فرانس میں جاری احتجاجی مظاہروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کئی علاقوں کو احتجاجیوں نے آگ کے حوالے کردیا اور لوٹ مار بھی کی۔

 

عدالت نے کہا کہ اسی وجہ سے کسی بھی سرگرمی کے انعقاد سے قبل پولیس کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ حکومتیں طلبہ کے درمیان دیگر عناصر کی دراندازی روکنے کے لیے ایسے ضوابط وضع کرتی ہیں۔ عدالت نے یہ ریمارکس کاکروچ جنتا پارٹی کے قائدین کی جانب سے ان کی عدالتی تحویل میں توسیع کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ درخواست کی فوری سماعت کے دوران کئے۔

 

ہائی کورٹ نے سوال کیا کہ جنتر منتر کو احتجاجی مظاہروں کے مقام کی حیثیت سے ختم کئے جانے کے بعد بھی وہاں جانے کی ضرورت کیا تھی؟ عدالت نے کہا کہ سڑک پر رکاوٹیں بلاوجہ نہیں لگائی جاتیں بلکہ ان کے پیچھے کوئی مقصد ہوتا ہے۔ اگر طلبہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بیریکیڈس ہٹاتے ہیں تو ان کے ساتھ ملک مخالف عناصر بھی وہاں جمع ہوکر تخریب کاری کرسکتے ہیں۔

 

عدالت نے امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنتر منتر پر قومی پرچم لہرانے پر سورَو داس اور اشوتوش رانکا پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ سورَو داس کی عمر 27 سال اور اشوتوش رانکا کی عمر 32 سال ہے۔ اس موقع پر عدالت نے ریمارک کیا کہ اشوتوش کو جین زی (Gen Z) نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ 1997 کے بعد پیدا ہونے والوں کو جین زی کہا جاتا ہے۔ بعدازاں عدالت نے دونوں قائدین کی درخواست مسترد کردی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button