نیشنل

راجیہ سبھا میں این ڈی اے کے دو تہائی اکثریت کے قریب پہنچنے کا امکان

نئی دہلی: پارلیمنٹ کی دونوں ایوانوں میں این ڈی اے کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مغربی بنگال انتخابات کے بعد ترنمول کانگریس میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے باعث ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں میں این ڈی اے کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔

 

خاص طور پر راجیہ سبھا میں این ڈی اے دو تہائی اکثریت کے قریب پہنچ رہی ہے جو آئینی ترمیمی بلوں کی منظوری کے وقت انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے تاہم لوک سبھا میں ابھی یہ اکثریت حاصل کرنا مشکل نظر آ رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق جھارکھنڈ اور میزورم میں راجیہ سبھا انتخابات

 

میں اگر آزاد امیدوار (بی جے پی حمایت یافتہ) کامیاب ہوتے ہیں تو این ڈی اے کی تعداد 151 تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد ٹی ایم سی کے تین اراکین کے استعفوں کے باعث ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی بی جے پی کو کامیابی کا امکان ہے جس سے تعداد 154 تک پہنچ سکتی ہے

 

تاہم دو تہائی اکثریت کے لیے 163 اراکین کی حمایت درکار ہے یعنی این ڈی اے کو مزید 9 نشستوں کی ضرورت ہوگی۔دوسری جانب یوپی سے 10 راجیہ سبھا اراکین کی مدت ختم ہونے کے بعد سیاسی صورتحال میں مزید تبدیلی کا امکان ہے جس سے این ڈی اے کی نشستیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

 

ادھر اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاککے پاس 64 اراکین ہیں تاہم بعض جماعتوں کے الگ رویے کے باعث اس کی طاقت محدود دکھائی دے رہی ہے۔لوک سبھا میں صورتحال مختلف ہے جہاں این ڈی اے کی موجودہ طاقت کے

 

باوجود دو تہائی اکثریت (363 نشستیں) حاصل کرنا فی الحال مشکل قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button