دہلی میں پانچ منزلہ لڑکوں کے ہاسٹل کی عمارت منہدم – 5 افراد کی موت ؛ ملبہ کے نیچے مزید افراد پھنسے رہنے کا اندیشہ
دہلی یونیورسٹی کے قریب ستیہ نکیتن علاقے میں لڑکوں کے ہاسٹل کی پانچ منزلہ عمارت اچانک منہدم ہونے سے 5 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 9 افراد کو ملبے سے بحفاظت نکال لیا گیا۔ پولیس کے مطابق بچائے گئے افراد میں پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔
ساؤتھ ویسٹ ایڈیشنل ڈی سی پی-1 ابھیمنیو پوسوال نے بتایا کہ ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے راحت اور بچاؤ کارروائیاں جاری ہیں۔ شدید زخمیوں کو جے پرکاش نارائن اپیکس ٹراما سینٹر منتقل کرکے علاج کیا جا رہا ہے۔ ملبے میں دھول اور مٹی بھر جانے کے باعث اندر پھنسے افراد کو آکسیجن کی کمی کا سامنا تھا، جس کے پیش نظر آکسیجن سلنڈر بھی موقع پر پہنچائے گئے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور ملبے سے تین لاشیں نکالیں۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے واقعے پر جائزہ اجلاس منعقد کیا اور لوک نائک ٹراما کیئر سینٹر پہنچ کر زیر علاج زخمیوں کی عیادت کی۔
یہ حادثہ اتوار کو دوپہر تقریباً 1:30 بجے دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب واقع ستیہ نکیتن علاقے میں پیش آیا۔ علاقے میں کئی پرانے ہاسٹل اور پی جی عمارتیں موجود ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ 50 سال سے زیادہ پرانی ’ہاسٹل ڈیز‘ نامی عمارت کے بیسمنٹ میں تعمیراتی کام جاری تھا، اسی دوران اچانک پوری عمارت منہدم ہوگئی۔
مقامی افراد نے دوپہر 1:33 بجے فائر بریگیڈ اور ساؤتھ کیمپس پولیس اسٹیشن کو اطلاع دی۔ حادثے میں بچ جانے والے افراد کے مطابق عمارت میں اچانک زوردار جھٹکا محسوس ہوا اور وہ کچھ سمجھ پاتے، اس سے پہلے ہی عمارت منہدم ہوگئی۔



