نیشنل

دو بیویوں کی صورت میں خاندانی پنشن دونوں کو برابر ملے گی – گریجویٹی صرف نامزد بیوی کو : کلکتہ ہائی کورٹ

کلکتہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی متوفی مرکزی سرکاری ملازم کے پیچھے دو بیویاں ہوں تو دونوں کو مرکزی سول سروسز (پنشن) قواعد کے تحت خاندانی پنشن میں برابر حصہ ملنے کا حق ہے۔ تاہم گریجویٹی کی رقم صرف اسی شخص کو دی جائے گی جسے ملازم نے اپنی زندگی میں باقاعدہ طور پر نامزد کیا ہو۔

 

جسٹس ریتوبروتو کمار مترا نے اپنے 2 ستمبر کے حکم میں کہا کہ متعلقہ قواعد میں واضح طور پر درج ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور دو بیویاں زندہ ہوں تو خاندانی پنشن دونوں کے درمیان برابر تقسیم کی جائے گی۔

 

یہ معاملہ سینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ کے ایک ملازم سے متعلق تھا، جس کی 2024 میں دورانِ ملازمت موت ہوگئی تھی۔ متوفی ملازم کی دو بیویاں تھیں اور وہ مسلم پرسنل لا کے تحت آتا تھا۔

 

پہلی بیوی نے حکام سے خاندانی پنشن، ڈیتھ گریجویٹی اور ہمدردانہ بنیادوں پر ملازمت دینے کی درخواست کی تھی۔ تاہم دوسری بیوی کی جانب سے بھی انہی فوائد کے لیے درخواست دیے جانے کے بعد حکام نے پہلی بیوی کے دعوے روک دیے۔

 

محکمہ نے ایک قاضی کی جانب سے جاری کردہ طلاق کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر یہ موقف اختیار کیا تھا کہ پہلی بیوی کا متوفی ملازم سے ازدواجی رشتہ ختم ہوچکا تھا۔

 

پہلی بیوی نے عدالت کو بتایا کہ بعد میں قاضی نے خود اس طلاق کے سرٹیفکیٹ کو کالعدم قرار دے دیا تھا، کیونکہ انہیں معلوم ہوا کہ پہلی بیوی اور متوفی ملازم کی شادی اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ تھی۔

 

عدالت نے واضح کیا کہ اسے متوفی ملازم کی پہلی یا دوسری شادی کی قانونی حیثیت کا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ متعلقہ سرکاری قواعد کے تحت دونوں بیویوں میں خاندانی پنشن برابر تقسیم کی جانی چاہیے۔

 

عدالت نے حکام کو ہدایت دی کہ پہلی بیوی کو خاندانی پنشن کا 50 فیصد حصہ چھ ہفتوں کے اندر ادا کیا جائے۔

 

تاہم گریجویٹی کے معاملے میں عدالت نے کہا کہ متوفی ملازم نے اپنی زندگی میں دوسری بیوی کو نامزد کیا تھا، اس لیے یکمشت گریجویٹی کی رقم حاصل کرنے کی حقدار صرف دوسری بیوی ہوگی۔

 

ہمدردانہ بنیادوں پر ملازمت کے معاملے میں عدالت نے محکمہ کو ہدایت دی کہ دونوں خواتین کی درخواستوں کا جائزہ لیا جائے اور قانونی اہلیت پر پورا اترنے والی امیدوار کو ملازمت فراہم کی جائے۔

 

درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹس دیباسس کار، حسین مصطفیٰ اور ریمی سل نے پیروی کی، جبکہ محکمہ کی جانب سے ایڈووکیٹس پرمود کمار ڈرولیا اور سنتوش کمار پانڈے عدالت میں پیش ہوئے

متعلقہ خبریں

Back to top button