اولیاء اللہ کی پہچان ایمان، تقویٰ، اتباعِ شریعت اور ذکرِ الٰہی سے ہوتی ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
اولیاء اللہ کی پہچان ایمان، تقویٰ، اتباعِ شریعت اور ذکرِ الٰہی سے ہوتی ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حیدرآباد، 6 ستمبر (پریس ریلیز):
انسانی زندگی میں کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی صحبت دلوں کو سکون، کردار کو پاکیزگی اور زندگی کو مقصد عطا کرتی ہے۔ ان کے وجود سے ایمان کی خوشبو، تقویٰ کی روشنی اور محبتِ الٰہی کی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کو اولیاء اللہ کا مقام عطا فرمایا اور قرآنِ مجید نے ان کی سب سے نمایاں پہچان ایمان اور تقویٰ قرار دی ہے۔ ولی ہونا کسی ظاہری دعوے، لباس یا شہرت کا نام نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط تعلق، رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اتباع، شریعت کی پابندی اور نیکی و تقویٰ کی عملی زندگی کا نام ہے۔
پرسنڈنٹ لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (فروغِ لسانیات) مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج صدرِ دفتر، بنجارہ ہلز، روڈ نمبر 12، حیدرآباد میں منعقدہ ’’عوامی مسائل کا حل، احکامِ شریعت کی روشنی میں‘‘ پروگرام میں عوام کی جانب سے پوچھے گئے مختلف شرعی سوالات کے جوابات عنایت فرماتے ہوئے ’’اولیاء اللہ کی کیا پہچان ہے؟ ولی کسے کہتے ہیں؟ اور کیا کسی ولی اللہ کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا جائز ہے؟‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ولی اللہ وہ شخص ہے جو ایمان و تقویٰ سے متصف ہو، عقیدہ درست رکھتا ہو، فرائض و واجبات کی پابندی کرتا ہو، نفلی عبادات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہو اور اس کی زندگی شریعتِ مطہرہ کے مطابق گزرتی ہو۔
انہوں نے قرآنِ کریم کی سورۂ یونس کی آیات 62 تا 64 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ
یعنی ’’سن لو! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔‘‘
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کی بنیادی شناخت خود بیان فرمائی ہے، یعنی ایمان اور تقویٰ۔ اس لیے کسی شخص کے ولی ہونے کا اندازہ اس کے محض دعوے، کرامت کے قصے، غیر معمولی ظاہری وضع قطع یا لوگوں میں مشہور ہونے سے نہیں بلکہ اس کے عقیدے، اعمال، اخلاق، تقویٰ اور شریعت کی پابندی سے لگایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ احادیثِ مبارکہ میں بھی اولیاء اللہ کی متعدد علامات بیان ہوئی ہیں۔ ایک روایت میں ایسے لوگوں کو اللہ کے ولی قرار دیا گیا ہے جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے مقبول بندوں کی صحبت انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد، آخرت کی فکر، نیکی کا شوق اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اولیاء اللہ کی ایک نمایاں صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی محبت دنیاوی مفاد، مال و دولت، رشتہ داری یا کسی غرض پر قائم نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوتی ہے۔ ایسے ہی بندوں کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں قیامت کے دن ان کے بلند مقام اور نورانی مرتبے کی بشارت دی گئی ہے۔
مولانا نے حدیثِ قدسی بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’جس نے میرے ولی سے دشمنی کی، میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں‘‘ اور بندہ فرائض کی ادائیگی کے بعد نوافل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمانے لگتا ہے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ولایت کا راستہ فرائض کی پابندی، نوافل، عبادت، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی محبت سے گزرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اولیاء اللہ دنیاوی نمود و نمائش کے طالب نہیں ہوتے بلکہ ان کی زندگی میں عاجزی، خوفِ خدا، عبادت، ذکر، صبر، شکر، حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق اور شریعت کی پابندی نمایاں ہوتی ہے۔ حقیقی ولی اپنی ذات کی طرف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ اکرم ﷺ کی اطاعت کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے واضح کیا کہ کرامت ولایت کی بنیاد نہیں بلکہ ولایت کی بنیاد ایمان و تقویٰ ہے۔ کسی شخص سے کوئی غیر معمولی واقعہ ظاہر ہوجانا اس کے ولی ہونے کی قطعی دلیل نہیں، جب تک اس کا عقیدہ درست، اعمال شریعت کے مطابق اور زندگی تقویٰ و طہارت سے مزین نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کے لیے دنیا و آخرت میں بشارت کا ذکر فرمایا ہے۔ نیک خواب، اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری، موت کے وقت فرشتوں کی تسلی اور آخرت میں جنت کی بشارت، یہ سب اللہ کے مقبول بندوں کے لیے انعامات میں شامل ہیں۔ تاہم ان امور کو ولایت کا لازمی ظاہری معیار قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ اصل معیار ایمان، استقامت اور تقویٰ ہے۔
وسیلہ کے ذریعے دعا کے بارے میں مولانا نے کہا کہ دعا حقیقت میں صرف اللہ تعالیٰ سے مانگی جاتی ہے، کیونکہ حقیقی حاجت روا اور مشکل کشا اللہ رب العزت ہی ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے کے مسئلے میں اہلِ سنت کے فقہی و اعتقادی ذخیرے میں تفصیلی بحث موجود ہے؛ اس لیے اس معاملے کو عقیدۂ توحید کے بنیادی اصولوں کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ کسی ولی کو اللہ تعالیٰ کا شریک یا مستقل بالذات مؤثر سمجھنا درست نہیں۔
انہوں نے عوام کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے نیک بندوں سے محبت کی جائے، ان کی صحبت اختیار کی جائے، ان کے حسنِ اخلاق اور تقویٰ سے سبق حاصل کیا جائے، مگر کسی شخصیت کے بارے میں غلو اور بے دلیل دعووں سے اجتناب کیا جائے۔ ولی اللہ کی حقیقی پہچان یہ ہے کہ اس کی زندگی انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب، رسولِ اکرم ﷺ کی سنت کا پابند اور شریعتِ مطہرہ پر ثابت قدم بنائے۔
آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ولی بننے کا دروازہ کسی خاص طبقے یا خاندان کے لیے مخصوص نہیں؛ ہر وہ شخص جو سچے ایمان، تقویٰ، اخلاص اور اطاعتِ الٰہی و رسول ﷺ کے راستے پر ثابت قدم رہے، اللہ تعالیٰ کی ولایت و قرب کی سعادت حاصل کرسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ظاہری شہرت کے بجائے ایمان، تقویٰ، کردار اور اتباعِ شریعت کو اصل معیار بنائیں۔



