تلنگانہ

 نئ دہلی میں مسلم خواتین صحافیوں پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف نظام آباد میں آل جرنلسٹس کا احتجاجی دھرنا

جمہوری ملک حکومت سے سوال کرنے کا صحافیوں کو مکمل حق

صحافیوں کی آواز دبانا جمہوری اقدار کے منافی تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈمی چیئرمین طاہر بن حمدان 

 نئ دہلی میں مسلم خواتین صحافیوں پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف نظام آباد میں آل جرنلسٹس کا احتجاجی دھرنا

ذمہ دار پولیس افسر کے خلاف سخت کارروائی اور دہلی کی وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کا مطالبہ

نظام آباد 6/ ستمبر ( اردو لیکس) ایک جمہوری ملک میں حکومتوں سے سوال کرنا کا مکمل حق صحافیوں کو حاصل ہے اور صحافیوں کی آواز کو دبانا جمہوری اقدار کے منافی ہے ان خیالات کا اظہار مہمان خصوصی ریاستی تلنگانہ اردو اکیڈیمی چیرمین جناب طاہر بن حمدان نے کیا

 

نئ دہلی میں دومسلم خواتین صحافیوں شاہین خان اور نفیسہ خان کے ساتھ مبینہ پولیس تشدد کے خلاف نظام آباد میں آل جرنلسٹس کی جانب سے آج دوپہر دھرنا چوک پر ایک زبردست احتجاجی دھرنا منظم کیا گیا۔ سینئر صحافی اشفاق احمد خان (پاپا) کی نگرانی میں منعقدہ اس احتجاج میں مختلف سیاسی و سماجی قائدین، عوامی نمائندوں، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور رضاکارانہ تنظیموں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور نئ دہلی پولیس کے رویہ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

 

احتجاجی دھرنے میں پرنٹ و الیکٹرانک بشمول سوشل میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے بڑی تعداد کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی، مذہبی، تنظیموں سے وابستہ سرکردہ شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے متاثرہ خواتین صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ نظام آباد پریس کلب کے جنرل سکریٹری سبھاش واگھمارے سمیت مختلف صحافتی اور سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد بھی احتجاج میں شریک رہے۔

 

اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئ دہلی میں ترقیاتی کاموں سے متعلق سوال کرنے پر خواتین صحافیوں شاہین خان اور نفیسہ خان کو مبینہ طور پر دہلی پولیس کی جانب سے لاٹھیوں اور لاتوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے خلاف نظام آباد کے صحافیوں نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے ریاستی تلنگانہ اردو اکیڈیمی چیئرمین جناب طاہر بن حمدان نے کہا کہ ایک جمہوری ملک میں حکومت سے سوال کرنے کا حق صحافیوں کو حاصل ہے اور صحافیوں کی آواز دبانا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے بعد صدر جمہوریہ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور تلنگانہ کے گورنر کو یادداشتیں پیش کی جائیں گی۔احتجاجی دھرنے میں سابق رکن اسمبلی نظام آباد اربن بیگالہ گنیش گپتا، ایم پی جے سابق ریاستی صدر محمد عبدالعزیز، پی آر ٹی یو ریاستی اعزازی صدر کرپال سنگھ، سوڑی جیپال ایڈوکیٹ، ٹی یو ڈبلیو جے ایف ریاستی نائب صدر محمد اعجاز، بنگار سائی، وڈڈر سنگم نرسملو، جنا ویگنیا نرسمہلو، پربھو داس، ایم پی جے ضلع صدر حلیم قمر، شیخ حسین، کانگریس کارپوریٹر عبود بن حمدان، نمائندہ کارپوریٹر محمد احمد، صدر ضلع مجلس اتحاد المسلمین محمد فیاض الدین، ٹاؤن صدر محمد شکیل، جنرل سکریٹری محمد شہباز احمد، سابقہ سینئر کارپوریٹر رفعت محمد خان، بی آر ایس ٹاؤن اقلیتی سیل صدر عمران شہزاد، فہیم قریشی، حافظ محمد لئیق خان، نائب صدر امارات ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا  ٹاؤن کانگریس صدر ببولی رام کرشنا، کانگریس قائدین محمد جاوید اکرم، مولانا کریم الدین کمال، مسعود احمد اعجاز، رام بھوپال، معین یونس، محمد ضیاء احمد اور سمیرا حمد، ضلع بی آر ایس اقلیتی سیل صدر نوید اقبال، فہیم قریشی، ٹی آر ایس قائد رفیق قریشی، ثنا اللہ خان اور سماجی کارکن ندیم قریشی سمیت دیگر قائدین اور کارکنان بھی احتجاج میں موجود تھے۔ایم اے عزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی کاموں سے متعلق سوال کرنے والی خواتین صحافیوں کے ساتھ مبینہ طور پر لاٹھیوں اور لاتوں سے تشدد کرنا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

 

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں ذمہ دار پولیس افسر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے اور نئ دہلی کی وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ لیا جائے۔کانگریس قائد مسعود احمد اعجاز نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں پر ہونے والا ظلم آئین اور صحافت کے چوتھے ستون پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے سوال کرنے والے صحافیوں کو نشانہ بنانا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ انصاف اور سچائی کے راستے پر ثابت قدم رہیں۔بنگار سائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافی معاشرے میں نہایت اہم ذمہ داری ادا کرتے ہیں،

 

لہٰذا اپنی ذمہ داری نبھانے والے صحافیوں کے ساتھ ناانصافی اور مبینہ تشدد ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف اس احتجاجی پروگرام کا انعقاد قابلِ ستائش ہے۔احتجاجی جلسے کی کارروائی محمد خالد خان اور سید قیصر نے چلائی

 

۔ احتجاجی دھرنے میں پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے وابستہ نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے خواتین صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور صحافتی آزادی و انصاف کے حق میں آواز بلند کی۔آخر میں اشفاق احمد خان پاپا نے تمام ہی افراد کا شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button