بیوی کے کسی دوسرے مرد کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں پکڑے جانے پر طلاق نہیں دی جا سکتی۔ ہندو میرج ایکٹ کے حوالہ سے عدالت کا تبصرہ

نئی دہلی: پٹنہ ہائی کورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو میرج ایکٹ 1955 کے تحت صرف اس بنیاد پر طلاق نہیں دی جا سکتی کہ بیوی یا شوہر کو کسی دوسرے شخص کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں پکڑا گیا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ صرف ایسی صورتحال میں پکڑے جانے سے ناجائز تعلقات ثابت نہیں ہوتے۔پٹنہ سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی شادی جولائی 2006 میں ہوئی تھی جبکہ 2010 میں ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی۔
شوہر نے الزام عائد کیا کہ 2013 میں اس کی بیوی کو اپنی بڑی بہن کے شوہر یعنی بہنوئی کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں پکڑا گیا تھا۔ شوہر کے مطابق جب اس نے دونوں سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی تو بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی۔
اس کے بعد شوہر نے فیملی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے دونوں کے درمیان طلاق کی درخواست دائر کی۔ تاہم وہ اپنے الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا جس پر فیملی کورٹ نے اس کی درخواست مسترد کردی۔
فیملی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے شوہر نے پٹنہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ جسٹس وویک چودھری اور جسٹس رانا وکرم سنگھ پر مشتمل بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے اہم ریمارکس کئے۔
عدالت نے کہا کہ صرف بیوی یا شوہر کو کسی دوسرے شخص کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں دیکھے جانے سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں کے درمیان جنسی تعلق قائم ہوا تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر اس بات کے شواہد موجود ہوں کہ دونوں کے درمیان متعدد مرتبہ جنسی تعلقات قائم ہوئے تو اسے ناجائز تعلقات کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ شوہر کا یہ دعویٰ کہ اس نے اپنی بیوی کو اس کے بہنوئی کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں دیکھا تھا اپنے آپ میں جنسی تعلقات کو ثابت نہیں کرتا۔
اسی طرح بیوی پر مبینہ ظلم و زیادتی کے الزامات کے حق میں بھی کوئی قابلِ قبول ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ان حالات میں پٹنہ ہائی کورٹ نے شوہر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔



