انٹرٹینمنٹ

میں پٹھان ہوں گولی مار دو‘ شاہ رخ خان نے انڈرورلڈ کو دھمکیوں کا اس انداز میں دیا تھا جواب

ممبئی:بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان نے اس وقت شہرت حاصل کی جب بالی ووڈ میں انڈرورلڈ کا خاصہ اثر و رسوخ تھا۔ اس دور میں فلمی ستاروں کو اکثر دھمکیاں دی جاتی تھیں اور ان سے اپنی مرضی کے مطابق کام کروانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ شاہ رخ خان بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔

 

حال ہی میں ایک انٹرویو میں فلمساز سنجے گپتا نے دعویٰ کیا کہ کنگ خان نے دھمکیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر چاہیں تو انہیں گولی مار دیں۔’حسین زیدی فائلز‘ کے پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے سنجے گپتا نے کہا کہ فلم انڈسٹری میں صرف ایک شخص ایسا تھا شاہ رخ خان جسے دھمکی دی گئی تو اس نے جواب دیا کہ وہ کبھی ان کے لیے فلم یا شو نہیں کرے گا۔

 

انہوں نے کہا ’’میں پٹھان ہوں، اگر گولی مارنی ہے تو مار دو میں تم سے نہیں ڈرتا ، میں نہ تمہارے ساتھ کام کروں گا اور نہ تمہارے لیے کوئی شو کروں گا۔‘‘ ان واقعات کے بعد شاہ رخ خان کو تقریباً تین سال تک سخت سکیورٹی اور پولیس تحفظ میں رہنا پڑا۔ ایک پرانے انٹرویو میں جس میں وہ کامیڈین اور اداکار روبی ویکس کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے شاہ رخ نے 1990 کی دہائی میں ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں بھی بات کی تھی۔انہوں نے بتایا تھا کہ انڈرورلڈ کی جانب سے ایک طرح کا نظام بنا ہوا تھا اور مطالبات کیے جاتے تھے۔ اگر کوئی ان کی بات نہ مانے تو اسے گولی مارنے تک کی دھمکی دی جاتی تھی۔ جب روبی ویکس نے پوچھا کہ کیا واقعی کوئی فون کرکے کہتا تھا کہ میری فلم میں کام کرو، ورنہ تمہیں قتل کر دوں گا، تو شاہ رخ خان نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

 

شاہ رخ خان نے یہ بھی بتایا تھا کہ بالی ووڈ انڈرورلڈ کے لیے آسان ہدف کیوں تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں کبھی جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی ہیں تو انہوں نے کہا تھا ’’ہاں، کئی بار‘‘ اور بتایا کہ تقریباً تین سال تک انہیں بہت زیادہ سکیورٹی فراہم کی گئی۔ فلم ناقد انُپما چوپڑا نے اپنی کتاب کنگ آف بالی ووڈ شاہ رخ خان اینڈ دی سیڈکٹیو ورلڈ آف انڈین سنیما میں بھی شاہ رخ خان اور انڈرورلڈ کے درمیان پیش آنے والے کئی واقعات کا ذکر کیا ہے۔ کتاب میں گینگسٹرس ابو سالم، چھوٹا راجن اور چھوٹا شکیل سے متعلق شاہ رخ خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا بھی ذکر ہے۔

 

چوپڑا نے ایک واقعے کا بھی ذکر کیا ہے جب ابو سالم نے مبینہ طور پر شاہ رخ خان کو براہِ راست فون کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ گینگسٹر نے اداکار کو اس لیے برا بھلا کہا کیونکہ انہوں نے سالم کے قریبی پروڈیوسر کی فلم میں کام کرنے سے انکار کر دیا تھا اگرچہ شاہ رخ خان اس گفتگو کے دوران پریشان اور خوف زدہ تھے لیکن انہوں نے خود کو پرسکون رکھا اور صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ جب سالم ایک مخصوص فلم میں کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا تو، چوپڑا کے مطابق، شاہ رخ نے اسے جواب دیا’’میں آپ کو یہ نہیں بتاتا کہ کسے گولی مارنی ہے، اس لیے آپ مجھے یہ مت بتائیے کہ کون سی فلم کرنی ہے۔‘‘فلمساز کرن جوہر نے اپنی سوانح عمری این اَن سوٹیبل بوائے میں بتایا کہ ان کی فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کی ریلیز سے قبل جب انہیں بھی انڈرورلڈ کی جانب سے دھمکیاں ملیں تو شاہ رخ خان نے کس طرح بے خوفی کا مظاہرہ کیا۔

 

کرن کے مطابق دھمکی کے بارے میں سن کر شاہ رخ نے کہا’’کیا بکواس ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ باہر آئے اور کرن کو اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کرن کے سامنے کھڑے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کون اسے گولی مارتا ہے۔کرن جوہر کے مطابق شاہ رخ نے ان کی والدہ کو بھی یقین دلایا کہ ’’میں پٹھان ہوں، مجھے کچھ نہیں ہو سکتا اور آپ کے بیٹے کو بھی کچھ نہیں ہوگا۔ وہ میرے بھائی جیسا ہے۔‘ بالی ووڈ اور ممبئی انڈرورلڈ کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے زیرِ بحث رہے ہیں، تاہم 1980 اور 1990 کی دہائی کے اواخر میں یہ معاملہ زیادہ نمایاں ہوا۔اس دور میں فلموں میں انڈرورلڈ کی جانب سے مبینہ سرمایہ کاری، فلموں میں مداخلت اور اداکاروں کو دھمکیاں دینے جیسے الزامات سامنے آتے رہے۔

 

1997 میں میوزک انڈسٹری کی معروف شخصیت گلشن کمار کے قتل نے بھی فلمی صنعت کو درپیش خطرات کو اجاگر کیا۔بعد ازاں 2001 کے ’چوری چوری چپکے چپکے‘ کیس کے بعد اس مبینہ گٹھ جوڑ پر مزید سوالات اٹھے۔ اس معاملے میں فلم فینانسر بھرت شاہ اور پروڈیوسر ناظم رضوی کو گینگسٹر چھوٹا شکیل سے مبینہ تعلقات کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button