مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں پہلی بار غیر مسلم اراکین شامل، حکومت نے جاری کیا نوٹیفکیشن
مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں پہلی بار غیر مسلم اراکین شامل، حکومت نے جاری کیا نوٹیفکیشن
بھوپال : مدھیہ پردیش حکومت نے ریاستی وقف بورڈ کی ازسرِ نو تشکیل کی ہے۔ اس کے تحت پہلی مرتبہ وقف بورڈ میں غیر مسلم، یعنی ہندو اراکین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
اب تک وقف بورڈ میں صرف مسلم طبقے کے نمائندے شامل ہوتے تھے، تاہم نئی تشکیل کے تحت قانونی ماہرین اور سرکاری افسران کے کوٹہ میں ہندو اراکین کو بھی نامزد کیا گیا ہےپہلی بار منوج ملپانی اور انیمیش بھارگو کو ہندو اراکین کی حیثیت سے بورڈ میں جگہ دی گئی ہے۔
نئے وقف بورڈ میں عاطف عقیل (رکن اسمبلی، بھوپال شمالی)، فیضان خان (اجین)، بہن فاطمہ چودھری (اندور)، شائستہ سلطان (کونسلر، بیریسیا)، شبانہ خان (کونسلر، رتلام)، منوج ملپانی، انیمیش بھارگو اور محکمہ پسماندہ طبقات و اقلیتی بہبود کے کمشنر کو بطور رکن نامزد کیا گیا ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ نجمہ ہیپت اللہ کا تقرر 2023 میں وقف ایکٹ کے تحت ہوا تھا اور ان کی مدتِ کار 18 اپریل 2028 تک برقرار رہے گی، اسی لیے انہیں نئی تشکیل شدہ بورڈ میں بھی شامل رکھا گیا ہے۔
۔ ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے جاری کردہ احکامات کے مطابق، وقف بورڈ کے انتظام، وقف جائیدادوں کی نگرانی اور قانونی کارروائیوں میں مزید شفافیت لانے کے مقصد سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
بی جے پی کی قیادت والی موہن یادو حکومت کا کہنا ہے کہ بورڈ میں سرکاری نمائندوں، رجسٹریشن محکمہ کے افسران اور قانونی ماہرین کے زمرے میں سب رجسٹرار سطح کے افسر سنجیو شریواستو سمیت متعدد غیر مسلم اراکین کو شامل کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مرکزی حکومت ملک بھر میں وقف ترمیمی بل نافذ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایسے میں مدھیہ پردیش حکومت کا یہ اقدام ملکی سیاسی حلقوں میں بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔




