نوابوں کے محل سے ہر گھر تک حیدرآبادی بریانی کا سفر۔ 40 ہزار کروڑ کی مارکیٹ

حیدرآباد: حیدرآبادی دم کی بریانی کا نام سنتے ہی کھانے کے شوقین افراد کی زبان پر پانی آجاتا ہے، اس کا ذائقہ زبان کو ایک نئی تازگی بخشتا ہے۔ سفید اور سنہری رنگ کے خوشبودار باسمتی چاولوں کے درمیان رکھا ہوا رسیلا لیگ پیس
ہر کسی کے ذہن میں ایک دلکش منظر پیدا کرتا ہے۔اگرچہ بریانی کی جڑیں ایران سے ملتی ہیں لیکن آج دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں حیدرآبادی دم کی بریانی اپنی الگ شناخت کے ساتھ موجود نظر آتی ہے۔ صرف حیدرآباد میں
ہی ہر سال تقریباً ایک کروڑ آرڈرس کے ساتھ بریانی نے ایسی مقبولیت حاصل کی ہے جو شاید ہی کسی اور کھانے کو نصیب ہوئی ہو۔نظام دور حکومت سے ہی مصالحوں اور خوشبو سے بھرپور دم کی بریانی کی روایت حیدرآباد کا حصہ بن
گئی۔ جو خوشبو کبھی شاہی باورچی خانے میں بریانی کی ہنڈیا کا ڈھکن اٹھنے پر پھیلتی تھی وہ آج شہر کی ہر گلی اور ہر گھر میں محسوس کی جا سکتی ہے۔دنیا کے کئی ممالک میں بریانی کے مختلف انداز موجود ہیں لیکن حیدرآبادی
بریانی کی اصل پہچان اس کا منفرد "دم” دینے کا طریقہ ہے۔ ایران اور عرب ممالک میں مندی یا کبسہ جیسے پکوان بنائے جاتے ہیں جہاں گوشت اور چاول الگ الگ پکائے جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر گوشت کے شوربے میں چاول پکائے جاتے ہیں۔
پاکستان میں بھی دم بکی ریانی تیار کی جاتی ہے تاہم اس میں آلو اور ٹماٹر زیادہ استعمال ہوتے ہیں اور گوشت پہلے الگ پکایا جاتا ہے پھر دم دیا جاتا ہے۔ لکھنؤ اور کولکتہ کی بریانی میں گوشت اور چاول کو آدھا آدھا پکا کر بعد میں اکٹھا دم دیا
جاتا ہے۔اتنی مقبولیت کے باوجود حیدرآبادی بریانی کو آج تک جغرافیائی شناخت جی آئی ٹیگ حاصل نہیں ہو سکا۔دکن
بریانی میکرز ایسوسی ایشن 2009 سے اس کے لیے کوشش کر رہی ہے۔حال ہی میں منعقد ہونے والی قومی "ون شیف بریانی پریمیئر لیگ” میں حیدرآبادی بریانی نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ بھارت کی آن لائن فوڈ ڈیلیوری ایپس پر سب سے
زیادہ آرڈرس بھی اسی بریانی کے ہیں۔سویگی کی رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً 8.3 کروڑ بریانی کے آرڈرز موصول ہوتے ہیں۔بھارت میں بریانی کی مارکیٹ تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کی ہے ۔




