راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس کو بڑا جھٹکا، میناکشی نٹراجن کا پرچہ نامزدگی مسترد
نئی دہلی: راجیہ سبھا انتخابات کے دوران کانگریس پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کانگریس کی سینئر رہنما کی نامزدگی کو مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد مدھیہ پردیش کی ایک راجیہ سبھا نشست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حق میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق میناکشی نٹراجن نے مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لئے نامزدگی داخل کی تھی۔ تاہم بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے شکایت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیلات نامزدگی فارم میں ظاہر نہیں کیں اور تلنگانہ میں اپنے خلاف درج ایک فوجداری مقدمہ کا ذکر بھی نہیں کیا۔
نامزدگیوں کی جانچ کے دوران الیکشن کمیشن نے اعتراضات کو درست قرار دیتے ہوئے میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کر دی۔ ان کی نامزدگی رد ہونے کے بعد بی جے پی امیدوار کی کامیابی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
دوسری جانب میناکشی نٹراجن نے اپنی نامزدگی مسترد کیے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی جمہوری اور آئینی اداروں پر حملہ آور ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پارٹی کے پاس مطلوبہ عددی قوت موجود نہیں، وہاں بھی امیدوار کھڑا کرنا بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی اور طرزِ عمل کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مدھیہ پردیش میں ماضی کی طرح راجیہ سبھا انتخابات کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک راجیہ سبھا نشست کا نہیں بلکہ ملک کے جمہوری نظام اور آئینی اقدار سے جڑا ہوا ہے۔
نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس کو ایک ممکنہ نشست سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے، جبکہ بی جے پی اپنی عددی برتری میں مزید اضافہ کرنے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔



