جرائم و حادثات

بے پناہ دولت کیلئے شوہر نے بیوی کو ذندہ دفن کردیا تھا۔ قبر پر محفلیں سجانے کا لرزہ خیز انکشاف ۔ بنگلور میں شاکرہ خلیلی کے دوسرے شوہر مرلی منوہر کی وحشیانہ حرکت کی پوری کہانی

بنگلورو: ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو میں پیش آنے والا شاکرہ خلیلی قتل کیس ملک کے سب سے ہولناک اور چونکا دینے والے مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک بااثر اور دولت مند خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون کو اس کے دوسرے شوہر نے مبینہ طور پر زندہ دفن کر دیا اور حیران کن بات یہ ہے کہ تقریباً تین برس تک اس جرم کا کسی کو علم نہ ہو سکا۔

 

اس دوران ملزم اسی جگہ پر تقریبات اور محفلیں منعقد کرتا رہا جہاں مقتولہ کی نعش دفن تھی۔شاکرہ خلیلی ریاست میسور کے سابق دیوان سر مرزا اسماعیل کی نواسی تھیں۔ 1947 میں پیدا ہونے والی شاکرہ کی پہلی شادی سفارت کار اکبر مرزا خلیلی سے ہوئی جن سے ان کی چار بیٹیاں تھیں۔ بعد ازاں دونوں میں طلاق ہوگئی۔

 

طلاق کے بعد شاکرہ کی ملاقات مرلی منوہر مشرا سے ہوئی جس نے خود کو "سوامی شردھانند” ظاہر کیا۔ دونوں نے شادی کر لی تاہم شاکرہ کے ارکان خاندان نے اس رشتے کی مخالفت کی۔ کچھ عرصے بعد جائیداد اور دولت کے معاملات پر میاں بیوی میں اختلافات بڑھنے لگے۔ تفتیش کے مطابق شردھانند کی نظریں شاکرہ کی بے پناہ دولت پر تھیں اور اسی لالچ نے اسے ایک ہولناک منصوبہ بنانے پر آمادہ کیا۔

 

اپریل 1991 میں شاکرہ اچانک لاپتہ ہوگئیں۔ ان کے بارے میں پوچھنے پر شردھانند مختلف کہانیاں سناتا رہا، کبھی کہتا وہ بیرونِ ملک گئی ہیں اور جلد واپس آجائیں گی۔تین سال بعد شاکرہ کی بیٹی صبا نے اپنی والدہ کی تلاش کے لیے قانونی جنگ شروع کی اور عدالت میں ہیبیس کارپس درخواست دائر کی جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔

 

مئی 1994 میں پولیس نے شاکرہ کے گھر کے صحن میں کھدائی کی تو چند فٹ نیچے ایک بڑا لکڑی کا صندوق ملا۔ صندوق کھولنے پر اس میں شاکرہ کا ڈھانچہ برآمد ہوا۔ تفتیش میں معلوم ہوا کہ انہیں پہلے نشہ آور دوا دی گئی پھر زندہ حالت میں صندوق میں بند کر کے زمین میں دفن کر دیا گیا۔ شواہد سے اندازہ ہوا کہ ہوش آنے کے بعد انہوں نے باہر نکلنے کی بھرپور کوشش کی لیکن آکسیجن نہ ملنے کے باعث دم گھٹنے سے ان کی موت ہوگئی۔

 

2005 میں بنگلورو کی سیشن عدالت نے شردھانند کو قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے اس جرم کو "ریئرسٹ آف دی ریئر” یعنی انتہائی نادر اور سنگین جرم قرار دیا اور سزائے موت سنائی۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

 

تاہم 2008 میں سپریم کورٹ نے سزا میں تبدیلی کرتے ہوئے سزائے موت کو بغیر کسی رعایت کے عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ جرم "لالچ اور غیر معمولی سفاکی” کا نتیجہ تھا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی قرار دیا کہ مجرم کو اصلاح کا موقع مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

 

بعد ازاں اس سنسنی خیز مقدمے پر مبنی "Dancing on the Grave” کے نام سے ایک دستاویزی سیریز بھی تیار کی گئی جس نے اس لرزہ خیز قتل کی کئی پوشیدہ حقیقتوں کو دوبارہ عوام کے سامنے پیش کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button