ممبئی: کھانے پینے کی اشیاء اخبار میں باندھ کر دینا پڑا مہنگا۔دکانداروں کو 11.51 لاکھ روپے جرمانہ

ممبئی؛ممبئی میں کھانے کی اشیا کی پیکنگ اور فروخت کے دوران اخبار کا استعمال کرنے والے تاجروں کے خلاف فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے خصوصی مہم چلا کر بڑی کارروائی کی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ نے واضح کیا ہے کہ
وڑا پاؤ، بھجیہ، سموسہ یا دوسری کھانے کی چیزوں کو اخبار میں لپیٹ کر دینا صارفین کی صحت کے لیے سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔ اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے برہن ممبئی نے 5 جون سے 16 جون 2026 کے درمیان خصوصی جانچ مہم چلائی۔ایف ڈی اے کے مطابق فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی) پہلے ہی کھانے کی اشیا کی پیکنگ یا براہ راست رابطے میں آنے والے ذرائع کے طور پر اخبار کے استعمال پر روک لگا چکا ہے۔
اخباروں کی چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی میں نقصان دہ کیمیکل، رنگ، سیسہ اور دیگر بھاری چیزیں موجود ہوتی ہیں جو کھانے میں مل کر صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔اس کے علاوہ تقسیم اور استعمال کے دوران اخبار کئی غیر صحت بخش حالات کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں بیماری پیدا کرنے والے مائکرو جنزم بھی موجود ہو سکتے ہیں۔
خصوصی مہم کے دوران مجموعی طور سے 55 کھانے پینے کا سامان فروخت کرنے والے مقامات کی جانچ کی گئی۔ اس دوران 26 مقامات پر اشیائے خوردنی کی پیکنگ یا فروخت کے لیے اخبار کا استعمال کئے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔ اس کے بعد سبھی معاملوں میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کی گئی۔
محکمہ کے مطابق اس دوران 26 خلاف ورزی کے معاملے درج کئے گئے جن میں سے 17 معاملوں کا نپٹارا کر لیا گیا ہے۔ ان معاملوں میں متعلقہ خوراک تاجروں سے مجموعی طور پر 11 لاکھ 51 ہزار روپئے کا سمجھوتہ جرمانہ وصول کیا گیا ہے اور خاص معاملوں میں مزید کارروائی جاری ہے۔
حکام نے بتایا کہ گرم یا تیل والے کھانوں کو اخبار میں لپیٹنے سے سیاہی میں موجود کیمیائی عناصر کھانے میں مل جاتے ہیں جس سے طویل عرصے تک صحت سے متعلق سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس لئے تمام خوراک تاجروں کو فوری طور سے اخبار کا استعمال بند کرکے خوراک کی حفاظت سے متعلق ضوابط پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ مہم برہن ممبئی کے فوڈ سیکورٹی افسران اور اسسٹنٹ کمشنر(فوڈ) کے ذریعہ جوائنٹ کمشنر (فوڈ) مہیش چودھری نیز کمشنر تکا رام منڈے کی قیادت میں چلائی گئی۔ مہیش چودھری نے وارننگ دی ہے کہ مستقبل میں بھی اس طرح کی خصوصی جانچ مہم مستقل طور سے جاری رہے گی
اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔



