نیشنل

حجاب کی وجہ سے مسلم ٹیچر ملازمت سے برطرف۔ اترپردیش میں واقعہ

نئی دہلی: اتر پردیش کے وارانسی سے ایک مسلم خاتون ٹیچر کی ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں ٹیچر نے الزام لگایا ہے کہ انہیں صرف حجاب پہننے کی وجہ سے اسکول سے نکال دیا گیا۔

 

دوسری طرف اسکول انتظامیہ نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے سوشل میڈیا پر فالوورز بڑھانے کا طریقہ قرار دیا ہے۔وائرل ویڈیو میں سمرین بانو کہتی نظر آ رہی ہیں کہ آج کے دور میں مسلم ٹیچرس کے ساتھ ہر جگہ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ سمرین کے مطابق مسلم ہونے اور حجاب پہننے

 

کی وجہ سے انہیں نوکری اور ٹیوشن نہیں مل پا رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسکولوں میں بچوں کے ذہن میں مسلم ٹیچرز کے خلاف خوف اور غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔سمرین کے مطابق، انہوں نے وارنسی کے ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹرائل دیا تھا لیکن پی ٹی ایم کے دوران انہیں حجاب اور سر ڈھانپنے سے منع کیا گیا۔

 

احتجاج کرنے پر انہیں 200 روپے بطور معاوضہ دے کر کام پر آنے سے روک دیا گیا۔اسکول کی ڈائریکٹر اور بی جے پی ضلعی یونٹ کی وزیر اوشاراج موریہ نے اسکول کا مؤقف پیش کیا۔اوشاراج موریہ کے مطابق، سمرین بانو کلاس میں موبائل فون استعمال کرنا چاہتی تھیں جو اسکول کے قواعد کے خلاف ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ اسکول میں 90 فیصد بچے مسلمان ہیں اور وہاں پہلے سے 4 مسلم ٹیچرس کام کر رہی ہیں جنہیں کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔اسکول انتظامیہ نے الزام لگایا کہ سمرین ایک ’بلاگر‘ قسم کی خاتون ہیں جنہوں نے صرف سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ ویڈیو بنایا۔

 

اسکول کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہیں دیگر ٹیچرس کی بندی منگل سوتر اور اسکول کی پرارتھنا (سرسوتی وندنا) پر بھی اعتراض تھا۔دوسری جانب اسکول کی طرف سے پولیس اسٹیشن میں تحریری معلومات دے دی گئی ہیں اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازع کو مزید نہیں بڑھانا

 

چاہتے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ٹیچر کو مستقبل کے لیے سمجھایا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button