ترنمول کانگریس میں بغاوت کے آثار۔ موجودہ صورتحال کے درمیان ممتا بنرجی کا بڑا فیصلہ

نئی دہلی: مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس شدید سیاسی بحران کا شکار ہو گئی ہے۔پارٹی سے نکالے گئے ایم ایل اے ریتبرتا بنرجی نے بغاوت کا پرچم بلند کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں تقریباً 60 ایم ایل ایز کی حمایت حاصل ہے جس کے بعد ٹی ایم سی میں تقسیم کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔
انہوں نے اسی عددی طاقت کی بنیاد پر اپنے گروپ کو “اصل ٹی ایم سی” کے طور پر تسلیم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اسمبلی اسپیکر کو مکتوب لکھا ہے۔دوسری جانب پارٹی نے اس بغاوت کے جواب میں اسمبلی میں اپنی پوزیشن مضبوط کرتے ہوئے شوبھن دیو چٹوپادھیائے کو قائد مقننہ اور فرہاد حکیم کو چیف وہپ مقرر کیا ہے۔
ادھر کولکتہ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس بحران کے پیچھے سازش کا الزام عائد کیا ہے۔اس دوران ترنمول کانگریس ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے مغربی بنگال میں اپنی تمام تنظیمی کمیٹیوں اور ذیلی و معاون تنظیموں کو فوری اثر سے تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پارٹی نے اس کے ساتھ ہی تنظیم کے مختلف شعبوں کا جامع جائزہ لینے اور ازسرنو تنظیم سازی کا عمل شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی کے اندر اختلافات اور بغاوت کی خبروں نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ترنمول کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ
تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کی تمام کمیٹیاں اور اس کی تمام تنظیمی یونٹس فوری اثر سے تحلیل کی جاتی ہیں۔ پارٹی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اب ہر سطح پر خود احتسابی، کارکردگی کا جائزہ اور تنظیمی ڈھانچے کی مکمل جانچ کا ایک وسیع عمل شروع کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس جائزہ مہم کے نتائج کی بنیاد پر مرکزی تنظیم اور تمام تنظیمی ڈھانچوں کی از سر نو تشکیل کی جائے گی، جس کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔اگرچہ پارٹی نے اس غیر معمولی فیصلے کے پس منظر میں کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی تاہم سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ قدم موجودہ بحران کے دوران تنظیم پر قیادت کی گرفت مضبوط کرنے
اور پارٹی کے ڈھانچے کو نئے سرے سے منظم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بدھ کے روز ہی ٹی ایم سی کے ناراض اراکین اسمبلی نے اسمبلی اسپیکر کے سامنے الگ قانون ساز پارٹی کے طور پر تسلیم کیے جانے کی درخواست پیش کی تھی
جس سے پارٹی کے اندر جاری اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔



