نیشنل

ایس آئی آر کے خلاف راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن قائدین کی درخواستوں پر سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن اور چیف کمشنر کو نوٹس

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کرنے اور مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر رایول گاندھی اور دیگر اپوزیشن قائدین کی جانب سے دائر درخواستوں پر جمعرات کو الیکشن کمیشن آف انڈیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔

 

بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے ان درخواستوں کو ایس آئی آر کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے پہلے سے زیر سماعت دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ نوٹس جاری کرنے کا مطلب کسی فریق کی مذمت کرنا نہیں ہے، تاہم ایک درخواست گزار کے طرز عمل پر آئندہ سماعت میں وضاحت طلب کی جائے گی۔ بنچ نے اس درخواست گزار کا نام ظاہر نہیں کیا۔

 

اس معاملے میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، ترنمول کانگریس کے سوگتا رائے، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی پرساد یادو، شیوسینا (یو بی ٹی) کے سنجے راوت، سی پی آئی (ایم) کے ایم اے بیبی، سی پی آئی کے ڈی راجہ، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی مہوا ماجی، این سی پی (شردچندر پوار) کی سپریا سولے اور انڈین یونین مسلم لیگ کے محمد بشیر بھی درخواست گزاروں میں شامل ہیں۔

 

واضح رہے کہ ایس آئی آر کے خلاف دہلی میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ گیانیش کمار نے دو الیکشن کمشنروں کے اعتراضات کے باوجود ایس آئی آر سے متعلق کئی فیصلے یکطرفہ طور پر کئے۔

 

ان احتجاجی مظاہروں کے دوران دہلی پولیس نے گزشتہ ہفتے متعدد افراد کو حراست میں لیا تھا اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کئے تھے۔ ان گرفتاریوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ وکلاء اور صحافیوں کو بھی حراست میں لے کر پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے سے روکا گیا۔

 

دریں اثنا، راہول گاندھی اور انڈیا اتحاد کے دیگر قائدین نے 12 اکتوبر کو بڑی تعداد میں حامیوں کے ساتھ سپریم کورٹ تک مارچ کیا تھا اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بڑے پیمانے پر نام حذف کئے جانے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button