اسپشل اسٹوری

گولکنڈہ کی کانوں سے برطانوی تاج تک – کوہِ نور کا حیرت انگیز سفر

لندن کے تاج میں سجا ’’کوہِ نور‘‘، ہندوستان کی تاریخ، دولت اور نوآبادیاتی لوٹ کی داستان

گذشتہ ماه اپریل میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نیویارک پہنچے تھے، جہاں انہوں نے 11 ستمبر حملوں کے متاثرین کی یادگار پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر نیویارک کی کئی اہم شخصیات نے ان سے ملاقات کی، جن میں شہر کے میئر ظہران ممدانی بھی شامل تھے۔ بھارتی نژاد جواں سال سیاستداں جواں خیالات اور دوٹوک مؤقف رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اسی ملاقات کے تناظر میں ایک بار پھر دنیا کے مشہور ترین ہیرے ’’کوہِ نور‘‘ کا ذکر موضوعِ بحث بن گیا۔

 

ہندوستان صدیوں تک دنیا میں ہیروں کا سب سے بڑا مرکز رہا۔ قدیم زمانے میں ہی یہاں کے لوگوں نے یہ جان لیا تھا کہ زمین کے اندر شدید دباؤ سے بننے والے یہ شفاف پتھر غیرمعمولی سختی رکھتے ہیں۔ سنسکرت میں ’’وجر‘‘ طاقت اور ناقابلِ شکست شے کو کہا جاتا تھا، اسی لئے ہندو دیوتا اندرا کا ہتھیار بھی ’’وجر‘‘ کہلاتا تھا۔ تقریباً تین ہزار برس قبل سے ہندوستان میں ہیروں کی کان کنی کے شواہد ملتے ہیں

 

تاریخی حوالوں کے مطابق دنیا بھر کے تاجر ہندوستانی ہیروں کے حصول کے لیے یہاں کا رخ کرتے تھے۔ خاص طور پر گولکنڈہ کے علاقے میں واقع کانیں اپنی چمکدار اور خالص ہیروں کے لیے مشہور تھیں۔ مؤرخین کا ماننا ہے کہ کوہِ نور بھی گولکنڈہ سلطنت کے زیرِ اقتدار دریائے کرشنا اور گوداوری کے اطراف سے نکلا تھا۔

 

گولکنڈہ کی کانوں میں ہزاروں مزدور دن رات مشقت کرتے تھے۔ اُس دور میں بارود جیسی جدید سہولتیں نہ ہونے کے باوجود مقامی لوگ پتھروں کو گرم اور ٹھنڈا کرکے قدرتی طریقوں سے کان کنی کرتے تھے۔ تاہم ان کانوں میں کام کرنے والے مزدور شدید غربت اور بدحالی کی زندگی گزارتے تھے، جبکہ ہیروں کے کاروبار سے وابستہ تاجر راتوں رات امیر بن جاتے تھے۔

 

’’کوہِ نور‘‘ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ’’روشنی کا پہاڑ‘‘ ہے۔ اس ہیرے کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ بعض روایات کے مطابق اس کا ذکر 14ویں صدی سے ملتا ہے، جبکہ Baburnama میں بھی اس کا حوالہ موجود ہے۔ کہا جاتا تھا کہ اس کی قیمت دنیا کی پوری آبادی کو کئی دنوں تک خوراک فراہم کرسکتی ہے۔

 

یہ ہیرا مختلف سلطنتوں اور حکمرانوں کے ہاتھوں میں گردش کرتا رہا۔ کبھی تحفے میں دیا گیا تو کبھی جنگوں اور لوٹ مار کے ذریعے قبضہ میں لیا گیا۔ مغل بادشاہ شاہجہاں کے دور میں اسے مشہور ’’مور تخت‘‘ میں نصب کیا گیا، جو ہندوستانی دولت اور شاہانہ عظمت کی علامت بن گیا۔

 

18ویں صدی میں ایرانی حملہ آور نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کرکے مغل خزانے کو لوٹ لیا اور مور تخت سمیت کوہِ نور بھی ایران لے گیا۔ بعد ازاں یہ ہیرا افغانستان کے درانی حکمرانوں اور پھر سکھ سلطنت کے بانی مہاراجہ رنجیت سنگھ تک پہنچا۔

 

برطانوی استعمار کے دور میں سکھ سلطنت کی شکست کے بعد کم عمر مہاراجہ دولیپ سنگھ سے ’’معاہدۂ لاہور‘‘ پر دستخط کروائے گئے، جس کے تحت کوہِ نور سمیت بے شمار خزانے انگریزوں کے حوالے کردیے گئے۔ اس طرح یہ تاریخی ہیرا انگلینڈ پہنچا۔

 

برطانیہ پہنچنے کے بعد اسے عوامی نمائش کے لئے رکھا گیا، لیکن ابتدا میں لوگوں نے اس کی چمک کو توقعات سے کم قرار دیا۔ بعد میں ماہرین نے کئی ہفتوں کی محنت سے اس کی نئی تراش خراش کی، جس کے نتیجے میں اس کا وزن کافی کم ہوگیا، مگر چمک میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا۔ بعد ازاں اسے برطانوی شاہی تاج کا حصہ بنادیا گیا۔

 

برطانوی ملکہ ملکہ وکٹوریا نے اگرچہ کوہِ نور کو شاہی خزانے میں شامل کیا، لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ اسے پہننے سے گریز کرتی تھیں کیونکہ یہ انہیں نوآبادیاتی ظلم اور لوٹ مار کی یاد دلاتا تھا۔

 

ہندوستان کو آزادی ملنے کے بعد نئی دہلی نے کئی بار برطانیہ سے کوہِ نور واپس کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن ہر مرتبہ اسے مسترد کردیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں اس مطالبے نے مزید شدت اختیار کی۔ پارلیمنٹ ارکان، دانشوروں اور سیاستدانوں نے بارہا برطانوی حکومت سے یہ تاریخی اثاثہ واپس کرنے کی اپیل کی۔

 

برطانیہ کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اگر کوہِ نور واپس کیا گیا تو پھر نوآبادیاتی دور میں لے جائے گئے بے شمار نوادرات کی واپسی کا مطالبہ بھی زور پکڑ لے گا۔ سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون نے ایک بار کہا تھا کہ اگر برطانوی میوزیم سے نوادرات واپس کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تو میوزیم خالی ہوجائے گا۔

 

اگرچہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ نیویارک کے میئر جواں خیال سیاستداں ظہران ممدانی نے بادشاہ چارلس سے کوہِ نور کے بارے میں بات کی یا نہیں، لیکن یہ حقیقت ایک بار پھر سامنے آگئی کہ ہندوستانی عوام آج بھی کوہِ نور کو اپنی تاریخ، تہذیب اور قومی وقار کی علامت سمجھتے ہیں، اور اس کی واپسی کا مطالبہ مسلسل جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button