اسپشل اسٹوری

مسلم ریزرویشن کے 21 سال: لاکھوں غریب طلبہ کے مستقبل کو روشن کرنے والا تاریخی دن

مسلم ریزرویشن کے 21 سال: لاکھوں غریب طلبہ کے مستقبل کو روشن کرنے والا تاریخی دن

 

کاماریڈی (سید کوثر علی کی رپورٹ)7 جولائی صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ لاکھوں غریب مسلمانوں کی زندگی بدل دینے والے ایک تاریخی فیصلے کی یادگار ہے۔ اس دن جاری کیے گئے 4 فیصد ریزرویشن نے تعلیم، روزگار اور سماجی ترقی کے میدان میں مسلم اقلیتوں کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔

 

کانگریس حکومت کے دور میں مرحوم وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی قیادت اور حکومتی مشیر محمد علی شبیر کی مسلسل کوششوں سے سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم طبقات کو BC-E زمرے میں شامل کرتے ہوئے 4 فیصد ریزرویشن فراہم کیا گیا۔ابتدا میں مسلمانوں کو 5 فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم قانونی رکاوٹوں کے بعد حکومت نے نظرثانی کرتے ہوئے 4 فیصد ریزرویشن نافذ کیا۔ 7 جولائی 2007 کو اُس وقت کی حکومت نے جی او نمبر 23 جاری کیا،

 

جس کے بعد ہزاروں غریب مسلم طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے دروازے کھل گئے۔اس پالیسی کے نتیجے میں بے شمار طلبہ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، فارماسسٹ اور سرکاری ملازم بننے میں کامیاب ہوئے۔ ایسے ہزاروں خاندان، جو مالی مشکلات کے باعث اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے سے محروم تھے، انہیں نئی امید اور سہارا ملا۔گزشتہ برسوں کے دوران قانونی چیلنجز کے باوجود سپریم کورٹ کی عبوری راحت کے سبب تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں یہ ریزرویشن برقرار ہے۔

 

بتایا جاتا ہے کہ اب تک تقریباً 21 لاکھ غریب مسلمانوں نے اس اسکیم سے فائدہ حاصل کیا ہے۔موجودہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں تلنگانہ حکومت نے جامع ذاتی سروے (کاسٹ سروے) کے ذریعے مسلم برادری کی سماجی، تعلیمی، معاشی اور روزگار سے متعلق صورتِ حال کے مستند اعداد و شمار جمع کیے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سروے سے BC-E مسلمانوں کی آبادی 10 فیصد سے زیادہ ثابت ہوئی، جس سے 4 فیصد ریزرویشن کو آئینی اور قانونی طور پر مزید مضبوط بنیاد حاصل ہوئی ہے۔

 

اس موقع پر کہا گیا کہ مرحوم وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے مسلم اقلیتوں کے لیے 4 فیصد ریزرویشن کا تاریخی فیصلہ کیا، محمد علی شبیر نے اس پالیسی کو حقیقت کا روپ دینے اور اس کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ موجودہ حکومت نے اس کے قانونی استحکام کے لیے مزید اقدامات کیے ہیں۔مقررین نے کہا کہ 7 جولائی سماجی انصاف، مساوی مواقع اور پسماندہ طبقات کی ترقی کے عزم کی علامت ہے، اور یہ دن ہمیشہ مسلم اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کی تاریخ میں سنہرے حروف سے یاد رکھا جائے گا

متعلقہ خبریں

Back to top button