اسپشل اسٹوری

ممبئی عمارت حادثہ: کھانا لینے گیا باپ، واپس آیا تو بیوی اور چار بچوں سمیت پورا خاندان ملبے تلے دفن

ممبئی: ممبئی میں بارش کے دوران مانخورد کے جنتا نگر علاقے میں غیر قانونی چار منزلہ عمارت گرنے کے دل دہلا دینے والے حادثہ نے ایک خاندان کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے چھین لیں۔ 39 سالہ معین الدین واجد علی شاہ صرف دس منٹ کے لئے گھر سے کھانا اور گھریلو سامان خریدنے نکلے تھے، مگر واپسی پر ان کی بیوی، چار بچوں اور محلے کی ایک معصوم بچی کی نعشیں ملبے سے نکالی گئیں۔

 

شدید بارش کے باعث اتوار کی صبح پڑوس کی چار منزلہ عمارت میں دراڑیں اور جھکاؤ ظاہر ہونے کے بعد معین الدین نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اگلے دن اپنا کرائے کا مکان خالی کر دیں گے۔ انہوں نے بچوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت دی اور اپنی اہلیہ اختر جہاں سے کہا کہ بچوں کے لیے کھانا تیار کریں، جبکہ وہ خود سامان لینے بازار چلے گئے۔ وہ بمشکل دس منٹ کے لئے گھر سے نکلے تھے کہ عمارت اچانک ان کے مکان پر آ گری۔

 

حادثے میں معین الدین کی اہلیہ اختر جہاں (38)، بیٹیاں قیصر جہاں (14) اور انابیہ (3)، بیٹے جلال الدین (9) اور سراج الدین (6) جاں بحق ہوگئے۔ ان کے بچوں کے ساتھ کھیلنے آئی پڑوس کی چھ سالہ بچی عالیہ علاؤالدین شیخ بھی ملبے تلے دب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

 

یہ سانحہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ممبئی میں بارش سے متعلق پیش آنے والی 10 اموات میں سے 6 اموات کا سبب بنا۔ مقامی افراد کے مطابق حادثے سے قبل عمارت بری طرح جھک چکی تھی اور اس کی دیواروں اور ٹائلوں سے ملبہ گرنا شروع ہوگیا تھا۔ خطرہ محسوس ہونے پر عمارت میں رہنے والے تین خاندان اسے خالی کر چکے تھے، جبکہ ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے اسے مکمل طور پر غیر قانونی تعمیر قرار دیا۔

 

اترپردیش کے ضلع بستی سے تعلق رکھنے والے معین الدین کی پرورش ممبئی کے مانخورد میں ہی ہوئی۔ وہ گزشتہ دو برس سے جنتا نگر میں کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے اور کنٹراکٹ مزدور کی حیثیت سے بی ایم سی کے مختلف پراجکٹ میں کام کر کے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ ان کے تمام بچے ذہین تھے اور شیواجی نگر میونسپل اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

 

حادثے کے بعد معین الدین شدید صدمے میں ہیں اور راجاواڑی ہاسپٹل میں پوسٹ مارٹم کی کارروائی میں بھی شرکت کرنے کی حالت میں نہیں تھے۔ ان کے رشتہ داروں نے تمام قانونی کارروائیاں مکمل کیں، جبکہ پیر کی شام اہلیہ اور چاروں بچوں کی میتیں تدفین کے لیے آبائی گاؤں، اترپردیش روانہ کر دی گئیں۔

 

ادھر چھ سالہ عالیہ علاؤالدین شیخ کے گھر والوں پر بھی غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس کے دادا افتخار شیخ نے بتایا کہ ان کی بیٹی نورجہاں ایک ماہ قبل بہتر روزگار اور بچوں کے روشن مستقبل کی امید میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ممبئی آئی تھی۔ ان کے داماد کو حال ہی میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں سپروائزر کی ملازمت ملی تھی اور خاندان مستقل رہائش کی تلاش میں تھا۔ حادثے کے وقت عالیہ کا ڈیڑھ سالہ بھائی ودیا اسپتال میں ہاتھ کے انفیکشن کی سرجری کرا رہا تھا۔ انہوں نے آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا خاندان یہاں منتقل نہ ہوتا تو شاید یہ سانحہ پیش نہ آتا۔

 

اسی حادثہ میں زخمی ہونے والے 23 سالہ ریحان علی، جو کرین آپریٹر ہیں، راجاواڑی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت کافی عرصے سے خستہ حال تھی۔ دیواریں ہلنے لگیں تو انہوں نے مالک مکان کو اطلاع دی اور رہائشی عمارت خالی کرنے لگے، لیکن جب وہ اپنا کچھ سامان لینے دوبارہ اندر گئے تو پوری عمارت منہدم ہوگئی اور وہ ملبے تلے دب کر زخمی ہوگئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button