ایک گھر، چار حافظِ قرآن؛ ڈاکٹر عتیق احمد کے خاندان کا قابلِ تقلید اعزاز

عصری تعلیم کے ساتھ حفظِ قرآن کی عظیم کامیابی، ڈاکٹر عتیق احمد کے چاروں بچے حافظِ قرآن بن گئے
عصری تعلیم کے ساتھ بچوں کو حافظِ قرآن بنانا یقیناً والدین کے لیے ایک بڑی سعادت اور قابلِ فخر کامیابی ہے۔ ایسے دور میں جب دینی اور عصری تعلیم میں توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے، ایک ہی خاندان کے چار بچوں کا حافظِ قرآن بن جانا ایک غیر معمولی اعزاز ہے۔
ایک خانگی کالج کے ڈائریکٹراور پرنسپل ڈاکٹر عتیق احمد نے یہ منفرد اعزاز حاصل کیا ہے۔ ان کے چاروں بچے، جن میں دو بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حفظِ قرآن کی دولت سے سرفراز ہوئے ہیں۔
مدرسہ عربیہ لتحفیظ القرآن، تاڑبن کے زیرِ اہتمام ایمپائر پیلس فنکشن ہال میں منعقدہ باوقار جلسۂ دستار بندی میں ڈاکٹر عتیق احمد کے چاروں بچوں کو تکمیلِ حفظِ قرآن کی اسناد ممتاز علمائے کرام کے ہاتھوں عطا کی گئیں۔
حافظِ قرآن بننے والے بچوں میں فاطمہ تحریم، شیخ عبدالقادر، شیخ عبدالرحمان، زویا خدیجہ شامل ہیں۔
یہ موقع ہر والدین کے لیے فخر، مسرت اور اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعام کا احساس لیے ہوئے تھا، جہاں حاضرین نے ڈاکٹر عتیق احمد اور ان کے اہلِ خانہ کو مبارکباد پیش کی۔
جلسۂ دستار بندی میں مہمانِ خصوصی مولانا سلمان بجنوری تھے، جبکہ مولانا مفتی خلیل احمد جامعہ نظامیہ، مولانا جعفر پاشہ حسامی، ڈاکٹر رضوان قریشی سمیت متعدد علمائے کرام، معزز شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔





