انٹر نیشنل

اسرائیل میں نتن یاہو کی اقتدار سے بے دخلی کے امکانات، نئی حکومت کی تشکیل پر سیاسی رسہ کشی تیز

حیدرآباد -7 نومبر، ( اردو لیکس ڈیسک)اسرائیل میں 27 اکتوبر کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے بعد وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کی اقتدار پر گرفت کمزور پڑگئی ہے۔ ان کی جماعت لیکوڈ نے سب سے زیادہ 27 نشستیں حاصل کیں، تاہم نتن یاہو کے اتحاد کو 120 رکنی پارلیمنٹ میں صرف 53 نشستیں ملیں، جبکہ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔

 

نئی حکومت کس کی بن سکتی ہے؟

نتن یاہو کے اہم سیاسی حریف اور سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کو 67 ارکان پارلیمنٹ کی تائید حاصل ہوئی ہے، جبکہ نتن یاہو کو 46 ارکان کی حمایت ملی ہے۔ اس صورتحال میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت سازی کی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔

 

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ 8 نومبر بروز اتوار حکومت بنانے کی دعوت دینے کے لیے کسی امیدوار کا انتخاب کریں گے۔ نامزد امیدوار کو حکومت تشکیل دینے کے لیے 28 دن ملیں گے، جس میں مزید 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔

نتن یاہو کے لیے مشکلات کیا ہیں؟

* ان کے سابق اتحادی یونائیٹڈ تورہ جوڈازم نے کسی امیدوار کی تائید کرنے سے گریز کیا ہے۔

* گاڈی آئزن کوٹ کو عرب جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، جنہوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔

* تاہم آئزن کوٹ نے عرب جماعتوں کو حکومت میں شامل کرنے سے انکار کیا ہے۔

* نتن یاہو نے وسیع قومی اتحاد کی حکومت بنانے کی پیشکش کی ہے، لیکن اس کی قیادت اپنے پاس رکھنے پر اصرار کیا ہے۔

 

کیا نتن یاہو کو وزارت عظمیٰ چھوڑنی پڑے گی؟

فی الحال اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ گاڈی آئزن کوٹ کی حمایت میں زیادہ ارکان سامنے آئے ہیں، لیکن ان کے لیے 61 نشستوں کا قابل عمل اتحاد بنانا آسان نہیں۔ دوسری طرف نتن یاہو بھی اپنے سیاسی اتحادیوں کے ساتھ حکومت بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

 

اگر کوئی بھی امیدوار حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا تو اسرائیل میں 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات ہوسکتے ہیں۔ اس وقت تک نتن یاہو عبوری وزیر اعظم کی حیثیت سے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ ۔ 8 نومبر کو صدر کا فیصلہ اس سیاسی بحران میں اہم پیش رفت ہوگا۔

.

Shadi
Shadi

 

متعلقہ خبریں

Back to top button