اسپشل اسٹوری

یمن کی حوثی باغی گروپ: ایک چھوٹی علیحدگی پسند تنظیم سے سعودی عرب کے لئے بڑا چیلنج بننے تک کا سفر

حیدرآباد – 12 اکتوبر ( اردو لیکس ڈیسک)؛حوثی گروپ نے 1990 کی دہائی میں یمن کے شمالی حصے میں ایک چھوٹی علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا، لیکن آج وہ سعودی عرب جیسے دولت مند ملک کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔ ابتدائی دور میں اس تنظیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، تاہم بحیرہ احمر اور بحر ہند کو ملانے والی اہم باب المندب آبی گزرگاہ کے قریب اس کی موجودگی نے عالمی سطح پر توجہ مبذول کرلی ہے۔

 

چھوٹی تنظیم سے مسلح تحریک تک

حوثی کون ہیں اور ان کی طاقت کیا ہے؟

حوثی یمن کی ایک مسلح سیاسی و مذہبی تحریک کے ارکان ہیں، جنہیں حوثی تحریک کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کا تعلق  زیدی شیعہ مکتبِ فکر سے ہے۔ اس کا آغاز 1990 کی دہائی میں یمن کے شمالی صوبہ صعدہ سے ہوا تھا۔

حوثیوں کے بارے میں اہم باتیں:

: اس تحریک کو حوثی، انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے اس کا نام اس کے بانی حسین الحوثی کے خاندانی نام سے ماخوذ ہے۔

حوثی تحریک کا آغاز 1990 کی دہائی میں یمن کے شمالی علاقے میں ہوا۔ صوبہ صعدہ میں آباد زیدی اقلیتی برادری نے اس تنظیم کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ 2004 میں یمن کی حکومت کی کارروائی کے دوران اس تحریک کے بانی حسین الحوثی ہلاک ہوگئے، جس کے بعد حوثیوں نے حکومت کے خلاف براہ راست مسلح جدوجہد شروع کردی۔

 

کس طرح مضبوط ہوئے حوثی؟

ایران حوثیوں کو براہ راست اور بالواسطہ مدد فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ حزب اللہ جیسی تنظیمیں انہیں ہتھیاروں کے استعمال اور عسکری صلاحیتوں میں معاونت فراہم کرتی رہی ہیں۔ یمن میں طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی کے دوران حوثیوں کی طاقت میں اضافہ ہوا اور ان کے جنگجوؤں کے ساتھ اسلحہ کے ذخیرے میں بھی وسعت آئی۔ حوثیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کا استعمال ان کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔

 

سعودی عرب کے ساتھ براہ راست تصادم

2015 میں یمن کی حکومت کے خلاف حوثیوں کی لڑائی کے دوران سعودی عرب نے ان کے خلاف براہ راست فوجی کارروائیاں شروع کردیں۔ اس کے بعد سے دونوں کے درمیان وقفے وقفے سے کشیدگی اور جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ حوثی جنگجو ریاض کو بھی نشانہ بناتے رہے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ مل کر کارروائیوں میں حصہ لینے والا متحدہ عرب امارات بعد میں پیچھے ہٹ گیا، جس سے حوثیوں کے خلاف قائم اتحاد کمزور پڑگیا۔

 

حوثیوں کی آمدنی کے ذرائع کیا ہیں؟

حوثیوں کو بنیادی طور پر ایران سے مالی وسائل اور دیگر امداد ملنے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ باب المندب سے گزرنے والے بعض جہازوں سے محصولات وصول کرنے اور مختلف بندرگاہوں سے آمدنی حاصل کرنے کے ذریعے بھی ان کے مالی وسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل یمن کے دارالحکومت صنعا پر بھی حوثیوں نے کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔

 

عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر اثرات

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل کی اہمیت بڑھ گئی ہے، لیکن اس راستے پر حوثیوں کے حملوں نے عالمی تجارتی سرگرمیوں اور بحری آمدورفت کو بھی متاثر کیا ہے۔

 

ماضی میں متحدہ عرب امارات یمن کے جنوبی حصے میں سرگرم علیحدگی پسند گروپوں کی بھرپور حمایت کرتا تھا، جس کے باعث حوثیوں کی توسیع کو چیلنجز کا سامنا تھا۔ تاہم سعودی عرب کے ساتھ اختلافات کے بعد متحدہ عرب امارات کی سرگرمیاں محدود ہونے سے حوثیوں کے خلاف دباؤ کم ہوگیا۔

 

تازہ صورتحال میں یمن کی سرکاری فوج اور سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ بین الاقوامی دفاعی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ حوثیوں کی عسکری سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے امریکہ اور نیٹو افواج کی جانب سے سعودی عرب کی مدد اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button