تلنگانہ

بلاؤز ٹھیک سے نہ سینے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ۔حیدرآباد صارفین کمیشن کا فیصلہ

حیدرآباد ۔ ایک خاتون نے اپنے بھائی کی شادی کے لیے بلاؤز سلوانے کی غرض سے ایک ساڑی دی لیکن اسے غلط طریقے سے کاٹ دینے پر ایک کمپنی پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔

 

حیدرآباد ڈسٹرکٹ کنزیومر فورم نے اس عمل کو سروس میں کوتاہی اور غیر اخلاقی کاروبار قرار دیتے ہوئے کمپنی کو ایک لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ متاثرہ خاتون کے مقدمے کے اخراجات بھی واپس کرنے کی ہدایت دی گئی۔

 

مشیرآباد کے گاندھی نگر سے تعلق رکھنے والی امرت ورشنی کے بھائی کی کچھ دن پہلے شادی طے ہوئی تھی۔ اس موقع پر تحفے میں ملی ایک قیمتی کانچی پٹو ساڑی کو بلاؤز میٹریل کے ساتھ سلائی کے لیے 25 جنوری 2025 کو بنجارہ ہلز میں واقع “بی ڈیزائن فار یو” نامی دکان پر دیا گیا۔

 

انہوں نے درخواست کی کہ 12 فروری کی شام تک کپڑے تیار کر کے دے دیے جائیں اور ایڈوانس کے طور پر 2500 روپے ادا کیے لیکن 5 فروری کو کمپنی کی جانب سے امرت ورشنی کو فون کر کے بتایا گیا کہ ایک غلطی ہو گئی ہے اور بلاؤز میٹریل کو غلط کاٹ دیا گیا ہے جس پر انہوں نے معذرت بھی کی۔

 

جس پر خاتون پریشان ہو گئیں تو کمپنی نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ایسا ورک کر کے اسے دوبارہ جوڑ دیں گے کہ کسی کو پتہ نہیں چلے گا مگر وہ اپنے وعدے پر قائم نہ رہ سکے نتیجتاً بلاؤز اس حالت میں نہیں رہا کہ اسے شادی میں پہنا جا سکے جس سے خاتون کو شدید ذہنی تکلیف ہوئی۔ انہوں نے نئی ساڑی دینے یا اس کی قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

 

کمپنی نے رقم دینے کا وعدہ کیا لیکن بعد میں کوئی جواب نہیں دیا۔آخرکار متاثرہ خاتون نے صارفین کمیشن سے رجوع کیا اور واٹس ایپ چیٹس، تصاویر، ساڑی اور رسیدیں بطور ثبوت پیش کیں۔ کمیشن نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد

 

کمپنی کو ایک لاکھ روپے ہرجانہ اور ایک ہزار روپے مقدمے کے اخراجات ادا کرنے کا حکم سنایا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button