اے پی سی آر تلنگانہ کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
اے پی سی آر تلنگانہ کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
شہری حقوق کے تحفظ، قانونی آگہی اور آئینی شعور کے فروغ پر زور
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) تلنگانہ کے زیر اہتمام ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ (PLA) اورکارکنان کے لیے ایک روزہ تربیتی بوٹ کیمپ فورٹ سوشل انسٹی ٹیوٹ، رامنتھا پور، حیدرآباد میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ ”شعور کے ذریعے انصاف: آئینی آزادیوں کے تحفظ کی مضبوط ڈھال“ کے عنوان سے منعقدہ اس پروگرام میں تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے پیرالیگل کارکنان، قانون کے طلبہ، سماجی کارکنان، کمیونٹی قائدین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی
۔تربیتی پروگرام کا مقصد اے پی سی آر کے ضلعی سطح کے قانونی شعور اور فوری امدادی نیٹ ورک کو مستحکم بنانا اور شرکاء کو شہری حقوق کے تحفظ، قانونی رہنمائی، دستاویزات کی تیاری اور آئینی آگہی کے لیے ضروری عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا تھا۔افتتاحی خطاب کرتے ہوئے اے پی سی آر تلنگانہ کے سکریٹری ڈاکٹر محمد شیخ عثمان نے شہری حقوق کی خلاف ورزیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں ضلعی سطح پر مضبوط قانونی امدادی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ اور منظم قانونی نیٹ ورکس متاثرین کو بروقت قانونی معاونت، دستاویزی رہنمائی اور ضروری مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں
۔پروگرام کے پہلے تربیتی سیشن میں ”قوانین، گرفتاری اور ملزم کے حقوق“ کے موضوع پر اے پی سی آر کرناٹک کے سکریٹری اور ہائی کورٹ کے وکیل ایڈووکیٹ اکمل رضوی نے خطاب کیا۔ انہوں نے فوجداری قوانین میں حالیہ تبدیلیوں، گرفتاری کے دوران شہریوں کے قانونی حقوق، آئینی تحفظات اور یو اے پی اے (UAPA) جیسے قوانین کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔دوسرا سیشن ”پولیس شکایات، ایف آئی آر اور زیرو ایف آئی آر کا نظام“ کے عنوان سے منعقد ہوا،
جس کی رہنمائی تلنگانہ ہائی کورٹ کے وکیل اور بار کونسل کے رکن ایڈووکیٹ ڈی۔ رگھوناتھ نے کی۔ اس سیشن میں شرکاء کو مؤثر قانونی شکایات تیار کرنے، زیرو ایف آئی آر کے طریق? کار کو سمجھنے اور پولیس کی جانب سے شکایت درج نہ کیے جانے کی صورت میں دستیاب قانونی راستوں کے بارے میں تربیت دی گئی۔ایڈووکیٹ رگھوناتھ نے تیسرے سیشن میں ”فیکٹ فائنڈنگ اور دستاویزی تحقیق“ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے شرکاء کو زمینی حقائق کی جانچ، متاثرین کے انٹرویوز، شواہد کے تحفظ اور غیر جانبدارانہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹس کی تیاری کے اصولوں سے آگاہ کیا
۔چوتھا سیشن ”خصوصی نظر ثانی مہم (SIR) اور حقِ رائے دہی کے تحفظ“ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں اے پی سی آر کرناٹک کی شازین صدیقی نے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی، انتخابی عمل میں شہریوں کی شرکت اور ووٹنگ کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اہم معلومات فراہم کیں۔بوٹ کیمپ کے آخری مرحلے میں شرکاء کو مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے حقیقی نوعیت کے قانونی اور انسانی حقوق سے متعلق کیس اسٹڈیز دی گئیں۔
شرکاء نے شکایات کی تیاری، قانونی دستاویزات کی تدوین، صورتحال کے تجزیے اور اجتماعی مسئلہ حل کرنے کی عملی مشقوں میں حصہ لیا۔ اس سرگرمی کا مقصد ان کی عملی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا اور زمینی سطح پر خدمات انجام دینے کے لیے تیار کرنا تھا۔اختتامی اجلاس اور کھلے مباحثے کے دوران وکلاء، سماجی کارکنان اور شرکاء نے اے پی سی آر تلنگانہ کی آئندہ سرگرمیوں کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں، جن میں حساس قانونی معاملات میں مقررہ مدتوں کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل اپڈیٹ سسٹم کا قیام، انتخابی فہرستوں کے مؤثر تجزیے کے لیے ڈیجیٹل ڈیٹا مینجمنٹ، پسماندہ اضلاع میں قانونی آگہی پروگراموں کی توسیع، تربیت یافتہ کارکنان کے لیے سہ ماہی جائزہ اجلاسوں کا انعقاد، کمیونٹی سطح پر قانونی شعور مہمات کا تسلسل اور کارکنان و قانونی معاونت کے نیٹ ورکس کے درمیان بہتر رابطہ نظام کی تشکیل شامل ہیں
۔اے پی سی آر تلنگانہ نے کہا کہ ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و رضاکار تربیتی بوٹ کیمپ کی کامیاب تکمیل اس کی اس مسلسل جدوجہد کا اہم سنگِ میل ہے جس کا مقصد ریاست بھر میں باشعور، باصلاحیت اور آئینی اقدار سے وابستہ افراد تیار کرنا ہے۔ تنظیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قانونی تعلیم، عوامی آگہی اور کمیونٹی شمولیت کے ذریعے انصاف تک رسائی کو فروغ دینے، شہری آزادیوں کے تحفظ اور عوام کو ان کے آئینی حقوق سے باخبر بنانے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔



