رمس آتشزدگی کی جامع تحقیقات، تینوں سیفٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت

رمس آتشزدگی کی جامع تحقیقات، تینوں سیفٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت
الیکٹریکل، فائر اور سول اسٹرکچر سیفٹی آڈٹ کرائے جائیں گے، رمس کو 950 بستروں کے سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل میں ترقی دینے کا اعلان ۔ وزیر صحت دامودر راج نرسمہا کا دورہ عادل آباد

خضر احمد یافعی کی رپورٹ
عادل آباد، 22/ ستمبر(اردو لیکس) عادل آباد کے راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (رمس) کے خصوصی نومولود بچوں کے نگہداشت وارڈ میں پیر کی شب پیش آئے آتشزدگی کے واقعہ پر ریاستی وزیر صحت و طبی خدمات دامودرا راجنرسنہا نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ وزیر نے منگل کو رمس ہاسپٹل کا دورہ کرتے ہوئے متاثرہ نومولود بچوں کے وارڈ کا معائنہ کیا اور حادثے کے وقت انجام دی گئی امدادی کارروائیوں، بچوں کی موجودہ طبی حالت، فراہم کی جانے والی طبی خدمات اور فوری طور پر کیے گئے اقدامات کے بارے میں ضلع کلکٹر راجارشی شاہ، رمس عہدیداروں اور ڈاکٹروں سے معلومات حاصل کیں۔
بعد ازاں وزیر نے رمس ڈائریکٹر کے چیمبر میں ضلع کلکٹر، محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیداروں اور رمس ڈاکٹروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر دامودرا راجنرسنہا نے بتایا کہ پیر کی رات تقریباً 11:40 بجے رمس کے نومولود بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق برقی شارٹ سرکٹ کے باعث اے سی یونٹ میں آگ لگی اور اے سی کے پلاسٹک کے حصے جلنے سے وارڈ میں گھنا دھواں پھیل گیا۔ تاہم حادثے کی قطعی وجوہات اور حفاظتی معیار پر عمل آوری میں کسی قسم کی کوتاہی ہوئی ہے یا نہیں، اس کا مکمل پتہ جامع تحقیقات کے بعد ہی چل سکے گا۔
وزیر نے کہا کہ حادثے کے فوراً بعد رمس عملہ، ضلعی انتظامیہ، فائر اور پولیس محکمہ نے باہمی تال میل کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے زیر علاج نومولود بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ بجلی کی سپلائی منقطع کرکے متاثرہ بچوں کو ہنگامی طبی خدمات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حادثے میں تین نومولود بچوں کی موت انتہائی افسوسناک ہے۔ متاثرہ بچوں کو بہتر علاج فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ان کی صحت کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ضرورت کے مطابق مقامی خانگی ہاسپٹلس کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
150 بستروں پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ بلڈنگ
وزیر نے بتایا کہ رمس میں ماں اور بچے کی صحت کی خدمات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 150 بستروں پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MCH) بلڈنگ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے زچگی، ماؤں کی نگہداشت اور نومولود بچوں کے لیے مزید بہتر طبی سہولیات دستیاب ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ فی الحال رمس میں تقریباً 800 بستروں کی گنجائش ہے۔ مزید 150 بستروں پر مشتمل MCH عمارت کے قیام کے بعد رمس کو تقریباً 950 بستروں کے سپر اسپیشلٹی ہاسپٹل کے طور پر ترقی دینے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ہیمٹولوجی اور ایمرجنسی شعبے قائم ہوں گے
وزیر نے کہا کہ عوام کو بہتر طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے رمس میں نئے شعبے قائم کیے جائیں گے۔ تھیلیسیمیا، سکل سیل انیمیا اور ہیموفیلیا جیسی بیماریوں کے بہتر علاج کے لیے ہیمٹولوجی شعبہ قائم کیا جائے گا۔ اسی طرح سڑک حادثات اور دیگر ہنگامی حالات میں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ایمرجنسی شعبہ بھی قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رمس میں پی جی میڈیکل طلبہ کی تعداد، او پی اور آئی پی خدمات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ پیڈیاٹرکس، گائناکولوجی اور ریڈیالوجی سمیت مختلف شعبوں میں پی جی نشستوں میں اضافے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کی کمیٹی کرے گی جامع تحقیقات
وزیر نے کہا کہ آتشزدگی کے واقعہ کی جامع تحقیقات کے لیے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ کمیٹی حادثے کی وجوہات، حفاظتی خامیوں، مینٹیننس میں کوتاہیوں اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لے گی۔
انہوں نے بتایا کہ رمس میں تین اہم سیفٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت دی گئی ہے، جن میں:
الیکٹریکل سیفٹی آڈٹ
فائر سیفٹی آڈٹ
سول اسٹرکچر سیفٹی آڈٹ
شامل ہیں۔
وزیر نے کہا کہ ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ اور سیفٹی آڈٹ کی بنیاد پر رمس میں ضروری مرمت، اضافی بنیادی سہولیات، تزئین و تجدید، نئے عمارتوں کی تعمیر اور اضافی عملہ کی تقرری سمیت تمام امور کا جامع جائزہ لیا جائے گا اور حکومت کو تجاویز پیش کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ رمس میں مینٹیننس، مانیٹرنگ اور حفاظتی معیار پر عمل آوری میں کسی قسم کی خامی ہے یا نہیں، اس کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے گا۔ تحقیقات میں کسی کی غفلت یا ذمہ داری سے پہلو تہی ثابت ہونے پر قواعد کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزیر نے کہا کہ رمس کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، مطلوبہ انسانی وسائل فراہم کرنا، مریضوں کو معیاری طبی خدمات دینا اور ہاسپٹل میں حفاظتی انتظامات کو مزید مستحکم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اس موقع پر مقامی رکن اسمبلی پائل شنکر، محکمہ صحت کی سکریٹری کرسٹینا زیڈ چانگتو، ڈی ایم اے وانی، ضلع کلکٹر راجارشی شاہ، ضلع ایس پی اکھل مہاجن، آئی ٹی ڈی اے پی او منڈا مکرند، ایڈیشنل کلکٹر آر ایس چترو، میونسپل چیئرپرسن بنداری انوشا، لائبریری چیئرمین ملے پھول نرسیا، مارکیٹ کمیٹی چیئرمین سری کانت ریڈی، رمس ڈائریکٹر جے سنگھ راٹھوڑ، ڈی ایم ایچ او سادھنا، ڈاکٹرس، عہدیداران اور طبی عملہ موجود تھا۔



