تلنگانہ

کے سی آر کے فارم ہاؤس پر کانگریس کارکنوں کا دھاوا – بیریکیڈز عبور کرنے کی کوشش؛ ایرّاولی میں شدید کشیدگی ؛ کے ٹی آر اور ہریش راو گرفتار

تلنگانہ کے سدی پیٹ ضلع کے ایرّاولی میں سابق چیف منسٹر چندرشیکھر راو کے فارم ہاؤس کے قریب کانگریس کے احتجاج کے اعلان کے بعد شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ کانگریس کارکن بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور ڈھول بجاتے ہوئے احتجاج کرنے کی کوشش کی .

 

کانگریس کے ضلع صدر نرساریڈی کی قیادت میں سینکڑوں کانگریس کارکن ورداراج پورم کے راستے فارم ہاؤس کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم پولیس نے جگہ جگہ بیریکیڈز اور رسیوں کی مدد سے انہیں روک دیا۔ کے سی آر ڈاون ڈاون کے نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے

 

اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان دھکم پیل ہوئی۔ بعض کارکن بیریکیڈز عبور کرتے ہوئے فارم ہاؤس سے تقریباً نصف کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گئے اور ڈھول بجا کر احتجاج کیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو پیچھے ہٹا دیا۔ مظاہرین کو قابو کرنے کے دوران چند پولیس اہلکار معمولی زخمی بھی ہوئے

 

۔ایک موقع پر ڈی سی سی صدر انکشا ریڈی نے بیریکیڈز کو دھکیلتے ہوئے فارم ہاؤس کی جانب دوڑ لگائی۔ دوسری جانب مرکوک میں بی آر ایس کارکن بھی بڑی تعداد میں جمع ہوگئے اور فارم ہاؤس کے قریب ’’رائتو دیکشا‘‘ کے نام سے احتجاج شروع کردیا۔ صبح سے ہی ایرّاولی اور اطراف کے علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے

 

۔فارم ہاؤس کے قریب حالات کی اطلاع ملنے پر کے ٹی آر، ہریش راؤ سمیت بی آر ایس کے ارکان اسمبلی اسمبلی سے ایرّاولی کے لیے روانہ ہوگئے۔ پولیس نے بُلارم کے مقام پر بی آر ایس ارکان اسمبلی کو روک دیا، جبکہ حکیم پیٹ کے قریب کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو بھی آگے جانے سے روک دیا گیا۔ اس پر بی آر ایس ارکان اسمبلی کی پولیس کے ساتھ بحث ہوگئی۔

 

بعد ازاں کے ٹی آر اور ہریش راؤ بُلارم چوراہے سے ایرّاولی کے لیے پیدل روانہ ہوگئے۔تاہم درمیان میں دونوں قایدین کو پولیس نے گرفتار کرتے ہوئے مختلف پولیس اسٹیٹس منتقل کردیا.انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت پولیس کی مدد سے کانگریس قائدین کو احتجاج کے لیے اُکساتی اور حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button