مذہب تبدیل کرکے غیر مسلم سے شادی کرنے والی اسما کی دو ماہ کے اندر دردناک موت

کانپور : اترپردیش کے ضلع کانپور دیہات میں غیر مسلم سے شادی کرنے والی 29 سالہ خاتون کو دو ماہ بعد مبینہ طور پر اس کے شوہر نے گھریلو تنازعہ کے دوران لوہے کی راڈ سے حملہ کرکے قتل کردیا۔ یہ واقعہ اتوار کی صبح پیش آیا۔ ملزم 30 سالہ گجیندر سانکھوار نے بعد میں خود پولیس کو فون کرکے اعتراف کیا کہ ’’میں نے اپنی بیوی کو قتل کردیا ہے۔‘‘
پولیس کے مطابق گجیندر نے اپنی پہلی بیوی کو چھوڑنے کے بعد اسما سے کورٹ میریج کی تھی، جس کے بعد اسما نے اپنا نام تبدیل کرکے سپنا رکھ لیا تھا۔ گجیندر کا پہلی شادی سے ایک بیٹا بھی ہے۔
29 سالہ سپنا کانپور دیہات کے ڈیراپور پولیس اسٹیٹس علاقہ کے دوراولی گاؤں کی رہنے والی تھی۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتی تھی۔ گجیندر راج مستری کا کام کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق واقعہ کے وقت سپنا موبائل فون پر کسی سے بات کر رہی تھی، جس پر دونوں کے درمیان بحث شروع ہوگئی۔ تنازع بڑھنے پر گجیندر نے مبینہ طور پر لوہے کی راڈ سے سپنا پر حملہ کردیا، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی۔
شور سن کر پڑوسی مکان پہنچ گئے۔ گجیندر کی اطلاع پر پولیس بھی وہاں پہنچ گئی اور سپنا کو اپنی گاڑی میں اکبرپور میڈیکل کالج لے گئی، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
پولیس نے گجیندر کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ شروع کردی ہے۔ اکبرپور پولیس اسٹیٹس انچارج ہرمیت سنگھ نے بتایا کہ نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور واقعہ کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔




