سہارنپور کے بعد اب مرادآباد کی مصطفیٰ مسجد پر بلڈوزر کا خطرہ، ایم ڈی اے نے جاری کیا نوٹس
مرادآباد: اترپردیش کے مرادآباد کے پاکبڑا تھانہ علاقہ میں دہلی-لکھنؤ نیشنل ہائی وے-9 کے کنارے واقع مصطفیٰ مسجد کو منہدم کرنے کی تیاری شروع ہوگئی ہے مرادآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) نے مسجد کی تعمیر کو مبینہ طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے 20 اگست کو نوٹس جاری کیا تھا۔ نوٹس کا جواب دینے کی مقررہ مدت 3 ستمبر کو ختم ہوچکی ہے، جس کے بعد اب مسجد کے خلاف کارروائی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 30 سال قبل ایکسپورٹر فرید جبّار نے اپنی فیکٹری میں یہ مسجد تعمیر کروائی تھی۔ 2025 میں ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے ذیشان فرید نے مسجد سے متصل جائیداد ایک خانگی یونیورسٹی کے مالک کو فروخت کردی تھی۔ تاہم مسجد میں اب بھی نماز ادا کی جاتی ہے۔
مرادآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ تقریباً 300 مربع میٹر رقبے میں قائم مسجد سرکاری زمین پر بغیر نقشہ منظور کرائے تعمیر کی گئی ہے۔ اسی بنیاد پر اسے مبینہ غیر قانونی تعمیر قرار دیتے ہوئے نوٹس جاری کیا گیا۔
مسجد کے امام مولانا شانے ازہری نے بتایا کہ انہیں نوٹس موصول ہوا ہے، تاہم اس کی مکمل معلومات مسجد کے منتظم ذیشان فرید کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں صرف نماز پڑھاتے ہیں۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ مسجد انتظامیہ کو دوسرا نوٹس جاری کیا جائے گا اور جواب دینے کے لیے مناسب وقت دیا جائے گا۔
اس معاملہ کے بعد مصطفیٰ مسجد پر کارروائی کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ حکام کے مطابق دوسرے نوٹس کے ذریعے مسجد انتظامیہ کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
سہارنپور میں بھی مسجد منہدم کی گئی تھی
اس سے قبل سہارنپور کے کلکٹریٹ احاطہ میں قائم مسجد کو انتظامیہ نے بلڈوزر کے ذریعے منہدم کردیا تھا۔ یہ مسجد تقریباً 3000 مربع فٹ رقبے میں بنی ہوئی تھی۔
10 فروری 2025 کو بجرنگ دل کے سابق صوبائی کنوینر وکاس تیاگی نے مسجد کو مبینہ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ سے شکایت کی تھی۔ مسجد کے احاطے میں موجود کمروں اور ڈاک خانے سے کرایہ وصول کئے جانے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ضلع مجسٹریٹ نے مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیا۔
مجسٹریل تحقیقات میں مسجد کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ 24 مارچ 2025 کو انتظامیہ نے سٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں عرضی داخل کی۔ 16 جولائی 2026 کو عدالت نے مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ہٹانے اور 6.41 کروڑ روپے ہرجانہ وصول کرنے کا حکم دیا تھا اور قابضین کو 30 دن کا وقت دیا گیا تھا۔
20 جولائی کو مسجد انتظامیہ نے مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف ضلع عدالت میں عرضی دائر کی۔ تاہم 2 ستمبر کو ضلع جج ستندر کمار کی عدالت نے سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے مسجد انتظامیہ کی عرضی خارج کردی۔




