ریونت ریڈی کو ہریش راؤ کا کھلا چیلنج: ’’قرض معافی ثابت کرو، ورنہ استعفیٰ دو‘‘
حیدرآباد: سابق وزیر اور بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے سنگاریڈی میں وزیرِ اعلیٰ ریونت ریڈی کے بیانات پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر کسانوں، طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
سدی پیٹ کے ایم ایل اے کیمپ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ کو ریاست کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود پر بات کرنی چاہیے تھی، لیکن انہوں نے معمولی سیاسی بیانات دیے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کانگریس کے منشور میں 420 وعدے کیے گئے تھے اور سنگاریڈی میں وزیرِ اعلیٰ نے شام 4 بج کر 20 منٹ پر تقریر شروع کرکے مبینہ طور پر صرف 420 الفاظ ہی بولے۔
ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت کے دور میں سنگور پروجیکٹ کی صورتحال خراب ہوئی ہے اور نارائن کھیڑ سمیت کئی علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے سنگمیشور اور باسویشور آبپاشی منصوبوں کو نظرانداز کرنے کا بھی الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں جاری کیے گئے راشن کارڈز، چاول کی تقسیم اور دیگر فلاحی اسکیموں کے بارے میں بھی وزیرِ اعلیٰ حقائق کے برخلاف بیانات دے رہے ہیں۔ ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی میں دی گئی معلومات کے مطابق کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد صرف 16 ہزار ملازمتیں دی گئی ہیں، جبکہ عوامی جلسوں میں 70 ہزار ملازمتیں دینے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بے روزگار نوجوانوں سے مبینہ طور پر کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے پر حکومت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
فیس ری ایمبرسمنٹ کے معاملے پر ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ گزشتہ ڈھائی سال سے بقایاجات ادا نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زیرِ التوا فیس ری ایمبرسمنٹ کی ادائیگی کے بارے میں واضح موقف پیش کرے۔
رائتوبندھو اور قرض معافی کے معاملے پر ہریش راؤ نے وزیرِ اعلیٰ کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ کے سی آر حکومت کے مقابلے موجودہ حکومت نے رائتوبندھو کی رقم میں کمی کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2022-23 میں بی آر ایس حکومت نے 14,743 کروڑ روپے جاری کیے تھے، جبکہ 2024-25 میں 5,557 کروڑ اور 2025-26 میں 11 ہزار کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ ان کے مطابق دو مالی سالوں میں تقریباً 15 ہزار کروڑ روپے کم دیے گئے۔
قرض معافی کے معاملے پر ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت نے 35 ہزار کروڑ روپے مختص کرنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن ان کے مطابق صرف 20 ہزار کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ کو چیلنج کیا کہ اگر ریاست میں ہر اہل کسان کا دو لاکھ روپے تک کا قرض معاف کیا گیا ہے تو وہ اس کا ثبوت پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گن مینوں کے بغیر وزیرِ اعلیٰ کے گاؤں آنے کے لیے تیار ہیں اور اگر قرض معافی مکمل ثابت ہوگئی تو وہ استعفیٰ دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔
انہوں نے ریاست میں 24 گھنٹے زرعی بجلی فراہم کرنے کے حکومت کے دعوے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ مختلف سب اسٹیشنوں کے لاگ بکس کے مطابق کئی علاقوں میں کسانوں کو صرف 10 سے 11 گھنٹے تھری فیز بجلی مل رہی ہے۔
ہریش راؤ نے یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی مبینہ قلت، ایک لاکھ سے زائد زرعی بجلی کنکشن زیرِ التوا ہونے، دھان کی خریداری میں کٹوتی اور فصل بونس کی عدم ادائیگی کے مسائل بھی اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے خواتین کو ماہانہ 2,500 روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن 32 ماہ گزرنے کے باوجود یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے حکومت پر کمیشن اور بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے اپنے بعض رہنما بھی حکومت کے کام کاج پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ مائننگ، 22A، قرض معافی، کھاد اور اسکالرشپس سمیت عوامی مسائل پر سوال اٹھانے کے بجائے ان کے خلاف ذاتی الزامات لگائے جا رہے ہیں، لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وزیرِ اعلیٰ میں ہمت ہے تو اسمبلی کا اجلاس منعقد کرکے قرض معافی، رائتوبندھو اور ملازمتوں کے معاملے پر کھلی بحث کریں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ عوام حکومت کے وعدوں اور کارکردگی کو دیکھ رہے ہیں اور مناسب وقت پر اپنا فیصلہ سنائیں گے۔



