تعلیمی نظام کی اصلاح کیلئے طلبہ ونوجوانوں کی جدوجہد کی تائید یونائٹیڈ مسلم فورم کی جنتر منتر میں احتجاجیوں پر دہلی پولیس کی بربریت کی مذمت

تعلیمی نظام کی اصلاح کیلئے طلبہ ونوجوانوں کی جدوجہد کی تائید یونائٹیڈ مسلم فورم کی جنتر منتر میں احتجاجیوں پر دہلی پولیس کی بربریت کی مذمت
حیدر آباد ۔ 24 جولائی ( پریس نوٹ ) یونائیڈ مسلم فورم نے ملک کے تعلیمی نظام کی اصلاح کیلئے طلبہ ونو جوانوں کی جدوجہد کی تائید کی ہے۔ فورم کے ذمہ داران مولانا مفتی سید صادق محی الدین فہیم (صدر) ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری، مولانا سید شاہ حسن ابراهیم حسینی قادری سجاد پاشاہ، مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی، مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ، جناب ضیا الدین نیئر، جناب سید منیر الدین احمد مختار (جنرل سکریٹری)، مولانا سید شاه ظہیر الدین علی صوفی قادری، مولانا سید شاہ فضل اللہ قادری الموسوی، مولانامحمد شفیق عالم خان جامعی، مولانا سید مسعود حسین مجمهتدی، مولانا مفتی محد عظیم الدین انصاری، مولاناسید احمد الحسینی سعید قادری، مولانا سید تقی رضا عابدی، مولانا ابوطالب اخباری، مولانا میر فراست علی شطاری ایڈوکیٹ سپریم کورٹ، مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی، جناب ایم اے ماجد، مولانا ڈاکٹر خواجہ شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاہ، مولانا ظفر احمد جمیل حسامی، مولا نا مفتی معراج الدین علی ابرار، مولانا عبدالغفار خان سلامی، مولانا سید وصی اللہ قادری نظام پاشاہ، مولانا سید شیخن احمد قادری شطاری کامل پاشاہ، مولانا مکرم پاشاہ قاری تخت نشین، جناب بادشاہ محی الدین، ڈاکٹر نظام الدین، جناب شفیع الدین ایڈوکیٹ، جناب ضیاء الدین آرکٹکٹ، مولانا سید قطب الدین حسینی صابری، ڈاکٹر مشتاق علی، جناب نعیم صوفی اور جناب خلیل الرحمن اور دیگر ذمہ داروں نے اپنے مشترکہ بیان میں مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور 20 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر میں کاکروچ جنتا پارٹی کے بیانر تلے طلباء و نوجوانوں کے احتجاجیوں پر دہلی پولیس کی بربریت کی مذمت کی ہے
۔ فورم کے ذمہ داروں نے کہا کہ بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت نے سارے تعلیم کو برباد کردیا۔ تعلیم کو زعفرانی رنگ دے دیا گیا۔ نصاب میں من مانی تبدیلیاں کردی گئیں۔ امتحانی پرچوں کا افشاء کیا جانے لگا، تعلیمی نظام کے بگاڑ کے ساتھ ملک میں بے روزگاری ، کرپشن، معاشی بدحالی، سماجی عدم آہنگی کو سرکاری سر پرستی حاصل ہونے لگی۔ پر امن احتجاج کو کچلنے کیلئے اسرائیل طرز کی بربریت کی جانے لگی۔ فورم کے ذمہ داران نے بتایا کہ ملک دن بہ دن پستی کی سمت جارہا ہے، لیکن حکومت اس مسائل سے پردہ پوشی کیلئے ہندو مسلم منافرت، بلڈوزر جسٹس، ہجومی تشدد، مذہب کی بنیاد پر تفریق کو ہوا دے رہی ہے۔
نیٹ پیپر لیک کے ذریعہ طلبہ و نوجوانوں نے ملک کو در پیش مسائل، حکومت کی نااہلی کو اجاگر کرنے پر امن و جمہوری احتجاج کیا ہے۔ فورم کے ذمہ داروں نے آگاہ کیا کہ جس طرح سی اے اے، این آرسی کے خلاف 2020ء میں دہلی کے شاہین باغ میں عوامی احتجاج کو کچلنے دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات کروائے گئے، جنتر منتر کے اس احتجاج کو بھی ختم کرنے شاہین باغ کی طرح مذمومانہ حرکت کی جاسکتی ۔ اس لئے سماج کے تمام طبقات کو مل جل کر اس امکانی صورت حال کا مقابلہ کرنا ہوگا
۔ فورم کے ذمہ داران نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران دہلی کے عوام کی ستائش کی، کس طرح مساجد و دیگر مذہبی اداروں کے دروازے کھول دیئے گئے اور مظاہرین کے لئے پانی وکھانے کا انتظام کرایا جارہا ہے، وہ لائق ستائش ہے۔
فورم کے ذمہ داروں نے عامۃ المسلمین سے اپیل کی کہ وہ ملک میں دستور وقانون کی حکمرانی ، عدل و انصاف کی بالا دستی، مختلف طبقات میں بھائی چارگی، باہمی ہم آہنگی کیلئے عملی جدوجہد جاری رکھیں۔ فورم کے ذمہ داران نے الکشن کمیشن کی جانب سے چند ریاستوں بشمول تلنگانہ میں جاریہ ایس آئی آر کے عمل کو پوری ذمہ داری کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچانے کی عوام سے اپیل کی۔



