سعودی میڈیا فورم 2026 کا اختتام – گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اندراج، ایس آر ایم جی کے لیے دو ایوارڈ

ریاض ۔ کے این واصف
سعودی دارالحکومت ریاض مین منعقد “سعودی میڈیا فورم 2026” کی سہ روزہ کانفرس کا اختتام عمل میں آیا۔ یہ فورم کا پانچواں ایڈیشن تھا۔ اس شاندار ایونٹ میں دنیا بھر سے 300 سے زائد ماہرین اور صحافیوں نے شرکت کی۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جاہ نہ ہوگا کہ اس بین الاقوامی کانفرنس میں حیدرآباد کے قدیم ترین روزنامہ سیاست کی بھی نمائندگی رہی۔ نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان نے سیاست کی نمائندگی کی۔
یہ ایک بڑے اعزاز کی بات ہے کہ سعودی “میڈیا فورم 2026” کو دنیا کا سب سے بڑا میڈیا ایونٹ قرار دیا گیا ہے جس کو گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں کر لیا گیا۔الاخباریہ چینل کے مطابق سعودی میڈیا فورم 2026 کی اختتامی تقریب میں “ سعودی ریسرچ میڈیا گروپ “ (ایس آر ایم جی) کو دو ایوارڈز دیے گئے۔ الشرق الاوسط کے صحافی عبدالھادی حبتور صحافتی مکالمہ جبکہ الاقتصادیہ کے خالد البدر کو بہترین میڈیا رپورٹ پر ایوارڈ دیا گیا۔
وزارت دفاع کی فلم ’العوجا‘ کو یوم تاسیس پر بہترین میڈیا جبکہ سیاحتی ترقی فنڈ کے پروگرام “وش سمعت عن السعودیہ” (سعودی عرب کے بارے میں کیا سنا) کو ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا۔
محمد الرمیحی کو بہترین کالم نگار کا ایوارڈ دیا گیا جبکہ “ایل یو ایم اے ایے آئی” کمپنی کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے بہترین میڈیا مواد تیار کرنے پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔
شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کو عالمی انسانی خدمات کے اعتراف میں “گلوبل کمپیٹیٹر” ایوارڈ دیا گیا۔
کانفرنس کے دوران میڈیا کے مستقبل، جدید ٹیکنالوجی کے اثرات سمیت مختلف موضوعات پر مباحثے ہوئے جس میں ممتاز میڈیا شخصیات اور پالیسی سازوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سعودی وزیر اطلاعات نے فورم میں 12 انیشیٹیوز کا اعلان کیا جن میں “سعودی میڈیا اننوویشن کیمپ” نمایاں ہے جس کے تحت ایڈوانس جرنلزم، سمارٹ کانٹینٹ کری ئیشن اور ورچوئل اینکر جیسے شعبے شامل ہیں، یہ اقدامات سدایا (سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلجنس ) کے اشتراک سے ہوں گے۔
اس کے علاوہ “تمکین” اور “نمو” جیسے پروگرامز اور میڈیا آئیڈیاز کو پائیدار کاروباری ماڈلز میں بدلنے کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔
میڈیا میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے اے آئی ضوابط کی دستاویز جاری کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ میڈیا میں سکالرشپ پروگرامز کے تحت سالِ رواں 100 طلبہ کو دنیا کی بہترین جامعات میں بھیجا جائے گا۔



