ندی کنارے ہاتھ پاؤں دھونے گیا 12 سالہ سنیل – مگرمچھ نے چیر پھاڑ کر نگل لیا
اترپردیش کے بہرائچ سے رونگٹے کھڑے کردینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک مگرمچھ 12 سالہ بچے کو زندہ نگل گیا۔ دھان کی کٹوائی کے بعد بچہ ندی میں ہاتھ پاؤں دھونے گیا تھا، اسی دوران مگرمچھ نے اس پر حملہ کردیا اور اسے اپنے جبڑوں میں دبوچ لیا۔ بچے نے خود کو چھڑانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے۔ اس کے چچا اور گاؤں والوں نے بھی اینٹیں اور پتھر پھینک کر اسے بچانے کی کوشش کی، لیکن مگرمچھ نے بچے کو نہیں چھوڑا۔
اس نے بچے کو دو تین بار اچھال کر پانی میں پٹخا اور پھر گہرے پانی میں کھینچ لے گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مگرمچھ نے بچے کے جسم کا نصف حصہ نگل لیا۔ پانچ گھنٹے بعد گاؤں والوں نے بچے کی لاش برآمد کی۔
یہ واقعہ جمعرات کی شام پیش آیا، تاہم اس کی ویڈیو جمعہ کی صبح سامنے آئی۔ تھانہ انچارج ٹی این موریہ نے واقعہ اور ویڈیو کی تصدیق کی ہے۔ فاریسٹ رینجر ثاقب انصاری نے بتایا کہ مگرمچھ بچے کی دائیں ٹانگ اور کمر کے نیچے کا حصہ کھا گیا۔ یہ واقعہ ضلع ہیڈکوارٹر سے 28 کلومیٹر دور بونڈی تھانہ علاقے میں پیش آیا۔
سنیل ٹکوری گاؤں کا رہنے والا تھا۔ اس کے والدین کا انتقال ہوچکا ہے۔ اس کے والد بدھ راج کی پانچ سال قبل جبکہ والدہ کی سات سال قبل بیماری کے باعث موت ہوئی تھی۔ چار بہن بھائیوں میں سنیل دوسرے نمبر پر تھا۔ اس کی بڑی بہن سمن (14)، چھوٹا بھائی سنجے (10) اور سب سے چھوٹی بہن سیما (7) ہے۔ تینوں بہن بھائی گاؤں کے پرائمری اسکول میں پڑھتے ہیں، جبکہ سنیل نے پڑھائی چھوڑ دی تھی۔ والدین کے انتقال کے بعد وہ اپنے چچا وجے راج سنگھ کے ساتھ رہتا تھا۔
گاؤں والوں کے مطابق جمعرات کو دوپہر تقریباً 2 بجے سنیل اپنے چچا وجے راج سنگھ کے ساتھ کھیت میں دھان کی روپائی کرنے گیا تھا۔ تین سے چار گھنٹے تک دھان کی کٹوائی کرنے کے بعد شام کو دونوں کھیت سے واپس آتے ہوئے گھاگھرا ندی میں ہاتھ پاؤں دھونے لگے۔ اسی دوران اچانک ندی سے مگرمچھ نکلا اور سنیل پر حملہ کردیا۔
یہ دیکھ کر اس کا چچا گھبرا گیا۔ اس نے شور مچا کر سنیل کو بچانے کی کوشش کی اور دوڑ کر آس پاس کے کھیتوں میں کام کرنے والے لوگوں کو بلایا۔ گاؤں والوں نے بچے کو مگرمچھ سے چھڑانے کی کوشش کی، لیکن مگرمچھ نے اسے نہیں چھوڑا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں گاؤں والے ندی کے کنارے پہنچ گئے۔ اہل خانہ بھی روتے بلکتے موقع پر پہنچ گئے۔
اندھیرا ہونے کے بعد گاؤں والوں نے ٹارچ کی روشنی میں بچے کی تلاش شروع کی۔ بڑے بانس کے ڈنڈوں کی مدد سے ندی میں تلاشی مہم چلائی گئی۔ ندی کا بہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے جائے وقوعہ سے تقریباً 500 میٹر تک تلاش کی گئی۔ دو گھنٹے تک مسلسل تلاش کے بعد اندھیرا ہوگیا، لیکن گاؤں والوں نے تلاش نہیں روکی اور ٹارچ کی روشنی میں بچے کو ڈھونڈتے رہے۔
تقریباً پانچ گھنٹے کی کوشش کے بعد رات 10 بجے جائے وقوعہ سے تقریباً 300 میٹر دور ندی میں بچے کی آدھی لاش تیرتی ہوئی ملی۔ گاؤں والوں نے لاش کو باہر نکالا اور پولیس کو اطلاع دی۔ مگرمچھ کے حملے سے لاش بری طرح مسخ ہوچکی تھی۔ جمعہ کی صبح پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا۔
سنیل کے چچا وجے راج سنگھ نے بتایا کہ وہ اپنے بھتیجے کو بچانے کے لئے ندی میں کود گئے تھے۔ انہوں نے بچے کا ہاتھ پکڑا اور تقریباً سات منٹ تک اسے چھڑانے کی کوشش کرتے رہے، لیکن مگرمچھ اسے گہرے پانی میں کھینچ لے گیا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد سنیل کی لاش پانی میں تیرتی ہوئی ملی۔ مگرمچھ اس کی ایک ٹانگ اور پیٹ کا حصہ کھا چکا تھا۔
گاؤں کے پردھان سنجے کمار ترپاٹھی نے بتایا کہ سنیل کے چچا وجے کمار دوپہر میں دھان کی روپائی کا کام روک کر گھر کھانا کھانے آئے تھے۔ اسی دوران سنیل ضد کرکے ان کے ساتھ چلا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد ندی کے کنارے مگرمچھ نے اس پر حملہ کردیا۔
ایس ڈی ایم پرکاش سنگھ نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع اعلیٰ حکام کو دے دی گئی ہے۔ متاثرہ خاندان کو 4 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔



