نیشنل

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی امیدوار کی ٹی ایم سی کارکنوں کی جانب سے پٹائی

مغربی بنگال میں جاری اسمبلی انتخابات کی پولنگ کے دوران کمارگنج میں بی جے پی کے امیدوار شبھیندو سرکار پر حملے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ترنمول کانگریس کے کارکنوں نے پولیس کی موجودگی میں انہیں گھیر کر بری طرح پیٹا، جس میں گھونسے، تھپڑ اور مکوں سے حملہ کیا گیا۔

 

دوسری جانب ترنمول کانگریس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں ووٹنگ پرامن طریقے سے جاری تھی، تاہم بی جے پی امیدوار نے بوتھ کے باہر پہنچ کر ہنگامہ آرائی کی کوشش کی اور ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ پارٹی کے مطابق مشتعل عوام نے اسی وجہ سے انہیں گھیر لیا۔

 

اطلاعات کے مطابق شبھیندو سرکار جمعرات کی صبح مختلف پولنگ بوتھس کا دورہ کر رہے تھے۔ بنی ہاری ہائی اسکول پہنچ کر انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے پولنگ ایجنٹ کو بوتھ میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس پر تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ ترنمول نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی امیدوار نے خود ہی کشیدگی پیدا کی اور حتیٰ کہ اپنے کارکنوں اور پولیس کو بھی دوڑایا۔

 

بی جے پی امیدوار کا کہنا ہے کہ کچھ شرپسند عناصر نے انہیں گھیر کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی گاڑی میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ موقع پر کوئی مرکزی سکیورٹی فورس موجود نہیں تھی، حالانکہ اس کی تعیناتی پولیس کی ذمہ داری ہے۔

 

ادھر لاؤپور میں بی جے پی امیدوار دیباشیش اوجھا کے انتخابی ایجنٹ پر بھی حملے کا الزام سامنے آیا ہے، جس میں اس کا سر پھٹنے کی اطلاع ہے۔ اس واقعہ کے بعد سائیں تھیا تھانہ کے حدود میں واقع بھرمروکول گاؤں میں کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی۔ تاہم ترنمول کانگریس نے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button