بنڈی سنجئے کے بیٹے کا معاملہ، متاثرہ کے برتھ سرٹیفکٹ کی جانچ کی جائے۔ عدالت کا حکم
نئی دہلی: مرکزی وزیر بنڈی سنجئے کے بیٹے بھاگیرتھ کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن پر تلنگانہ ہائیکورٹ میں سماعت ملتوی کر دی گئی۔ بھاگیرتھ نے اپنے خلاف درج پوکسو کیس کو ختم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے ہائی کورٹ
سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ عبوری پر فیصلہ جمعہ کے روز سنایا جائے گا، جبکہ اَنٹیسیپیٹری بیل کی درخواست پر اگلے ہفتے سماعت ہوگی۔ درخواست گزار کی جانب سے لائر نرنجن ریڈی اور پولیس کی طرف سے پبلک پراسیکیوٹر
ناگیشور راؤ نے دلائل پیش کیے۔بھاگیرتھ کے وکیل نرنجن ریڈی نے متاثرہ لڑکی کی عمر سے متعلق کئی نکات عدالت کے سامنے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی چارج شیٹ میں لڑکی کی عمر 15 سال درج کی گئی ہے لیکن جی ایچ ایم
سی کی جانب سے جاری کردہ برتھ سرٹیفکیٹ میں سنِ پیدائش 2008 درج ہے جبکہ پین کارڈ میں 2010 درج ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 2021 میں جب متاثرہ لڑکی بغیر قانونی اجازت گاڑی چلاتے ہوئے پکڑی گئی تھی تب اس کی عمر
15 سال بتائی گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے سوال کیا کہ چارج شیٹ اور پین کارڈ میں تاریخِ پیدائش مختلف کیوں درج ہےاور پولیس کو برتھ سرٹیفکیٹس کی جانچ کرنے کا حکم دیا۔سماعت کے دوران متاثرہ فریق کے وکیل نے باندی بھاگیرتھ کو
“کرمنل” کہا، جس پر پٹیشنر کے وکیل نے سخت اعتراض کیا۔ دونوں لائرس کے درمیان تلخ کلامی پر جج نے شدید ناراضی ظاہر کی۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ جب تک جرم ثابت نہ ہو کسی کو کرمنل نہیں کہا جا سکتا۔عدالت نے مزید کہا کہ اگر
وکلاء تحمل کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو پٹیشن کسی دوسری بینچ کو منتقل کی جا سکتی ہے۔ جج نے تمام وکلاء کو صبر اور وقار کے ساتھ پیش آنے کی ہدایت دی۔



