مانو شعبہ سوشل ورک کی کیمپس پلیسمنٹ میں شاندار کامیابی عظیم پریم جی فاونڈیشن اور پیرامل فاو نڈیشن میں متعدد طلبہ کا انتخاب

حیدرآباد، 14 مئی (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ سوشل ورک نے کیمپس پلیسمنٹ کے میدان میں ایک نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے یونیورسٹی کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ایک اہم کامیابی کے طور پر پیرامل فاو نڈیشن کے گاندھی فیلوشپ پروگرام نے 10 اپریل کو شعبہ سوشل ورک، مانو میں منعقدہ کیمپس ریکروٹمنٹ ڈرائیو کے دوران شعبہ کے 10 طلبہ کا انتخاب کیا۔
پروفیسر محمد شاہد رضا ، صدر،شعبہ سوشل ورک کے بموجب اس انتخابی عمل میں مختلف جامعات کے کُل 48 طلبہ نے شرکت کی، جن میں سے مانو کے شعبہ سوشل ورک کے دس طلبہ منتخب ہوئے۔ اس سے قبل شعبہ کے ایک اور طالب علم کا انتخاب عظیم پریم جی فاو ¿نڈیشن میں ہوا ہے، جس سے ترقیاتی سطح پر شعبہ کی کامیابیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔یہ کامیابی شعبہ کے مضبوط تعلیمی ماحول اور پیشہ ورانہ تربیت کی عکاسی کرتی ہے۔طلبہ کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر محمد شاہد رضا نے موجودہ تعلیمی سال کو شعبہ کے لیے تاریخی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ متعدد طلبہ پہلے ہی ترقیاتی اور سماجی شعبوں میں کام کرنے والی معروف تنظیموں میں منتخب ہو چکے ہیں، جبکہ کئی دیگر طلبہ کے انٹرویو نتائج کا انتظار ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اعتماد ظاہر کیا کہ شعبہ اس سال سو فیصد پلیسمنٹ کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے اطلاع دی کہ میجک بس فاو ¿نڈیشن بھی جلد ایک اور تقرری مہم کے لیے شعبہ کا دورہ کرنے والی ہے۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے منتخب طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور شعبہ کی مسلسل کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنی آئندہ پیشہ ورانہ زندگی میں عزم، سماجی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ دیانت داری کے ساتھ کام کریں۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد بھی موجود تھے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ تعلیمی سال میں بھی شعبہ سوشل ورک کے چار طلبہ کا انتخاب عظیم پریم جی فاونڈیشن میں بطور ریسورس پرسن ہوا تھا۔ یہ مسلسل کامیابیاں اس حقیقت کو اُجاگر کرتی ہیں کہ مانو کا شعبہ سوشل ورک ترقیاتی شعبے کے لیے باصلاحیت، باعزم اور تربیت یافتہ پیشہ ور افراد تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کامیابی کو یونیورسٹی کے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ قرار دیا جا
رہا ہے، اور یہ ملک بھر میں مانو کے شعبہ سوشل ورک کی بڑھتی ہوئی قومی شناخت اور وقار کی عکاسی بھی کرتی ہے-



