صحافیوں کے اکریڈیٹیشن کارڈس کی تجدید میں تاخیر ہائی کورٹ میں جلد سماعت کے لیے تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی درخواست دائر۔

صحافیوں کے اکریڈیٹیشن کارڈس کی تجدید میں تاخیر
ہائی کورٹ میں جلد سماعت کے لیے تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی درخواست دائر۔
حکومت کے تیقن کے باوجود اکریڈیٹیشن کارڈس تجدید نہ کرنے پر ناراضگی۔
عدالت نے معاملہ 21 مئی تک ملتوی کردیا، تعطیلات کے بعد توہینِ عدالت کی کارروائی کا امکان
حیدرآباد، 14 مئی ( پریس نوٹ) ریاست تلنگانہ میں ورکنگ جرنلسٹس کے اکریڈیٹیشن کارڈس کی تجدید کا مسئلہ ایک بار پھر عدالت کے روبرو پہنچ گیا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی تعطیلاتی بنچ نے جمعرات کو اس معاملہ کی سماعت کی، جب صحافیوں کی جانب سے یہ شکایت پیش کی گئی کہ عدالت میں حکومت کی جانب سے تیقن دیئے جانے کے باوجود اب تک اکریڈٹیشن کارڈس کی تجدید عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کے جاری کردہ جی او نمبر 252 کو فروری 2026 میں تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس مقدمہ کی گزشتہ سماعت 30 اپریل کو ہوئی تھی، جس کے دوران عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ 16 جون 2026 تک اپنا جوابی حلف نامہ داخل کریں۔
اسی سماعت کے دوران ایڈیشنل اسپیشل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو تیقن دیا تھا کہ ریاست بھر کے ورکنگ جرنلسٹس کے اکریڈیٹیشن کارڈس کی تجدید 16 جون تک جاری رکھی جائے گی، تاہم صحافی تنظیموں کا الزام ہے کہ حکومت کی جانب سے اب تک اس سلسلہ میں کوئی عملی پیشرفت نہیں ہوئی۔
حکومت کی مبینہ لاپرواہی اور تاخیر کے خلاف اڈوکیٹ برکت علی خان نے ہائی کورٹ میں ایک عاجلانہ سماعت کی درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایکریڈیٹیشن کارڈس کی تجدید نہ ہونے کے سبب ریاست بھر کے صحافی شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔
یہ معاملہ آج تعطیلاتی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا جہاں ابتدائی دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے کیس کو مزید سماعت کیلئے 21 مئی 2026 تک ملتوی کردیا۔
دورانِ سماعت تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اکریڈیٹیشن کارڈس کی تجدید میں تاخیر اور انکار دستور ہند کے تحت حاصل بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے استدلال پیش کیا کہ یہ مسئلہ آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار رائے اور آزادیٔ تقریر سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اگر عدالت میں حکومت کی جانب سے دیا گیا سابقہ تیقن عملی طور پر عمل نہیں کیا گیا تو تعطیلات کے اختتام کے بعد توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی جاسکتی ہے۔
تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن نے حکومت سے فوری طور پر ایکریڈیٹیشن کارڈس کی تجدید کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارڈس صحافیوں کیلئے سرکاری تقاریب، دفاتر اور دیگر پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔



