جنرل نیوز

قربانی کے اہم شرعی مسائل پر عوامی رہنمائی — حاملہ جانور، گوشت ذخیرہ اور مقروض پر قربانی کے احکام بیان مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

قربانی کے اہم شرعی مسائل پر عوامی رہنمائی — حاملہ جانور، گوشت ذخیرہ اور مقروض پر قربانی کے احکام بیان مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

 

حیدرآباد، 20 مئی (پریس ریلیز):ماہِ ذی الحجہ کی مبارک ساعتیں جہاں امتِ مسلمہ کے لیے روحانی تجدید، تقویٰ، ایثار اور قربانی کے عظیم پیغام کا مظہر ہیں، وہیں ان ایام میں عوام الناس کی دینی رہنمائی اور شرعی مسائل کی درست تفہیم وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایم ٹی ایس ایچ حیدرآباد میں منعقدہ “قربانی کے احکام و مسائل” کی دوسری خصوصی نشست( 2ذی الحجہ)میں خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے عوامی سوالات کے جوابات احکامِ شریعت کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ ارشاد فرمائے۔ اس موقع پر شرکاء نے قربانی سے متعلق مختلف عملی اور معاشرتی مسائل دریافت کیے جن کے مدلل اور بصیرت افروز جوابات پیش کیے گئے۔

 

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے ایک سوال کے جواب میں، جس میں قربانی کے جانور کے حاملہ ہونے کے متعلق دریافت کیا گیا تھا، فرمایا کہ اگر قربانی کے لیے خریدی گئی بکری حاملہ ہو تو شریعت میں اس کی گنجائش موجود ہے کہ مالک چاہے تو اس بکری کو اپنے پاس رکھ لے تاکہ وہ بچہ جن دے، یا پھر اسے فروخت کرکے اسی قیمت یا اس سے زیادہ قیمت کی دوسری بکری خرید لے۔ مزید فرمایا کہ اگر اسی بکری کی قربانی کر دی جائے اور اس کے پیٹ سے بچہ زندہ نکل آئے تو اس بچے کو بھی ذبح کرنا ضروری ہوگا، اور اگر مردہ نکلے تو ماں کا ذبح ہی اس کے لیے کافی شمار ہوگا۔ اس لیے ایسی بکری کی قربانی بھی درست ہے اور چاہیں تو اس کو تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ آخر میں فرمایا: “واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔”

 

اسی نشست میں قربانی کے گوشت کو ذخیرہ کرنے کے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ اسلام نے اعتدال، ہمدردی اور معاشرتی تعاون کی بہترین تعلیم دی ہے۔ افضل طریقہ یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں؛ ایک حصہ غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کیا جائے، دوسرا حصہ رشتہ داروں اور دوست احباب کو دیا جائے اور تیسرا حصہ اپنے استعمال کے لیے رکھا جائے۔ تاہم اگر کسی کو زیادہ ضرورت ہو تو وہ زیادہ حصہ اپنے پاس بھی رکھ سکتا ہے، اور اگر ضرورت کم ہو تو زیادہ سے زیادہ گوشت غرباء میں تقسیم کرنا بہتر اور باعثِ اجر ہے۔

 

انہوں نے فرمایا کہ معاشرے کے خوشحال افراد کو چاہیے کہ وہ ان ایام میں خصوصی طور پر غرباء اور نادار افراد کا خیال رکھیں، کیونکہ بہت سے ایسے گھرانے ہوتے ہیں جو سال بھر گوشت سے محروم رہتے ہیں۔ اگر قربانی کے گوشت کو ضرورت سے زیادہ جمع کرکے ضائع ہونے دیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری کے مترادف ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اضافی گوشت ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ نعمت کی قدر بھی باقی رہے اور غریبوں کی دلجوئی بھی ہو۔ اس موقع پر انہوں نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ثروت کو محتاجوں کی مدد اور خیر خواہی کی توفیق عطا فرمائے۔

 

مزید ایک سوال کے جواب میں، جو مقروض شخص پر قربانی کے وجوب سے متعلق تھا، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے فرمایا کہ اگر کسی شخص کے پاس موجود سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور قابلِ وصول قرض وغیرہ کو جمع کرنے کے بعد اس پر موجود قرض منہا کر دیا جائے، اور باقی ماندہ مالیت نصابِ شرعی یعنی ساڑھے سات تولہ سونے کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو، تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔ انہوں نے وضاحت فرمائی کہ قربانی کے وجوب کے لیے صرف صاحبِ نصاب ہونا کافی ہے، زکوٰۃ کی طرح نصاب پر پورا سال گزرنا شرط نہیں ہے۔

 

نشست کے اختتام پر مولانا نے فرمایا کہ قربانی محض ایک رسم نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم اطاعت، ایثار اور تسلیم و رضا کی یادگار عبادت ہے، جس کا اصل مقصد تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ قربانی کے مسائل میں شریعت کی صحیح رہنمائی حاصل کریں، غرباء و مساکین کا خصوصی خیال رکھیں اور ان مبارک ایام کو عبادت، اخلاص اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ گزاریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button