غزہ حملوں پر خوشی منانے والے کا بیٹا بھی حملہ میں ہلاک ۔ آدتیہ شرما کی موت پر سوشل میڈیا پر بحث

نئی دہلی ۔ہماچل پردیش سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ بھارتی ملاح آدتیہ شرما 10 جون کو آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوجی حملے میں ہلاک ہوگئے۔ آدتیہ اس آئل ٹینکر پر خدمات انجام دے رہے تھے جسے ایرانی تیل کی نقل و حمل کے الزام میں امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے نشانہ بنایا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق جہاز پر 24 بھارتی عملے کے ارکان سوار تھے جن میں سے 21 کو بچا لیا گیا جبکہ آدتیہ شرما سمیت تین بھارتی ملاح ہلاک ہو گئے۔ آدتیہ شرما ہماچل پردیش کے ضلع ہمی پور کے رہنے والے تھے اور بطور ڈیک کیڈٹ خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد ارکان خاندان شدید غم میں ہیں اور حکومتِ ہند و ریاستی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی نعش وطن واپس لائی جائے تاکہ آخری رسومات ادا کی جا سکیں۔
راجیش شرما کے بیٹے آدتیہ شرما کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ 23 سالہ آدتیہ شرما جو ایک بھارتی بحری جہاز پر بطور ملاح خدمات انجام دے رہے تھے ایک حملے میں ہلاک ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے جس کے بعد خاندان غم میں ڈوب گیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ ہے کہ راجیش شرما ماضی میں ایکس (ٹوئٹر) اور فیس بک پر فلسطین غزہ اور مسلمانوں کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز تبصرے کرتے رہے ہیں۔ بعض صارفین کے مطابق وہ غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں پر خوشی کا اظہار کرتے تھے اور اسرائیل کی کارروائیوں کی حمایت کرتے تھے۔ ان دعوؤں کے اسکرین شاٹس بھی مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کئے جا رہے ہیں تاہم ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
آدتیہ شرما کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر راجیش شرما کے سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ جنگ نفرت اور تشدد کا درد بالآخر ہر انسان اور ہر خاندان تک پہنچتا ہے خواہ اس کا مذہب قومیت یا نظریہ کچھ بھی ہو۔
اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا جنگوں اور تنازعات میں ہونے والی انسانی جانوں کی تباہی کو سیاسی یا مذہبی عینک سے دیکھنے کے بجائے انسانی المیے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے؟ سوشل میڈیا پر جاری بحث میں بہت سے صارفین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معصوم جانوں کا نقصان
چاہے غزہ میں ہو یا کہیں اور، ایک ایسا درد ہے جسے آخرکار ہر خاندان محسوس کر سکتا ہے۔




