مضامین

انا ہزارے کی تحریک سے کاکروچ جنتا پارٹی تک: کیا 2029 میں بھی سیاسی تبدیلی ممکن ہے؟

مضمون کار: محمد حسن الدین مڑکی

 

سال 2011 میں سماجی کارکن انا ہزارے نے لوک پال بل کے مطالبے کو لے کر ایک ملک گیر تحریک شروع کی تھی۔ اس تحریک میں مختلف سماجی کارکنان، دانشوروں اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ بدعنوانی کے خلاف اٹھنے والی اس آواز نے عوامی سطح پر ایک نئی سیاسی بیداری پیدا کی اور حکومت کی پالیسیوں اور کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے۔

 

تحریک کے دوران ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے اور حکومت کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس عوامی بے چینی نے 2014 کے مرکزی انتخابات پر بھی اثر ڈالا، جہاں عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا اور حکومت تبدیل ہوگئی۔

 

2014 کے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دی۔ اس کے بعد سے بی جے پی مسلسل اقتدار میں ہے اور ملک کی سیاست میں ایک مرکزی قوت کے طور پر موجود ہے۔

 

تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ مختلف حلقوں میں حکومت کی بعض پالیسیوں اور فیصلوں پر تنقید بھی سامنے آتی رہی ہے۔ اسی پس منظر میں حالیہ دنوں ایک غیر متوقع واقعہ سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا سبب بنا۔ سپریم کورٹ کے ایک جج کی جانب سے استعمال کیا گیا مزاحیہ لفظ "کاکروچ” نوجوانوں کے درمیان تیزی سے مقبول ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک علامتی تحریک کی شکل اختیار کرنے لگا۔

 

نوجوانوں نے اس جذبے کو آگے بڑھاتے ہوئے "کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم قائم کیا۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ صرف ایک ماہ کے اندر اس پلیٹ فارم کے فالوورز کی تعداد دو کروڑ (20 ملین) سے تجاوز کر گئی، جس نے سیاسی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

 

6 جون کو کاکروچ جنتا پارٹی کے بانیوں اور اراکین نے جنتر منتر پر احتجاجی دھرنا بھی دیا، جہاں مختلف عوامی مسائل اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق مطالبات پیش کیے گئے۔ اس واقعے نے یہ سوال کھڑا کر دیا کہ آیا یہ محض ایک سوشل میڈیا مہم ہے یا مستقبل میں ایک مؤثر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

 

سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی نوجوان بڑی تعداد میں کسی مقصد کے لیے متحد ہوتے ہیں تو اس کے اثرات انتخابی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ انا ہزارے کی تحریک کو بھی ابتدا میں محض ایک عوامی احتجاج سمجھا گیا تھا، لیکن بعد میں اس کے سیاسی اثرات پورے ملک نے دیکھے۔

 

آج یہی سوال ایک بار پھر زیر بحث ہے کہ کیا کاکروچ جنتا پارٹی آنے والے انتخابات میں اپوزیشن کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے؟ کیا یہ پلیٹ فارم حکومت مخالف ووٹروں کو ایک نئی سمت دے سکے گا؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جس طرح 2014 میں سیاسی تبدیلی دیکھنے کو ملی تھی، کیا ویسی ہی کوئی تبدیلی 2029 کے انتخابات میں بھی ممکن ہے؟

 

ان سوالات کے حتمی جوابات تو آنے والا وقت ہی دے گا، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ نوجوانوں کی سیاسی شمولیت اور سوشل میڈیا کی طاقت آج بھی بھارتی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اگر یہ تحریک زمینی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو آنے والے برسوں میں اس کے سیاسی اثرات ضرور زیرِ بحث رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button