مضامین

غیر منظم ایس آئی آر شہریوں کے لئے وبال جان – کیا تلنگانہ سرکار شہریوں کو مستقل رہائشی سند (پی آر سی)جاری کرے گی؟

تحریر: سید سرفراز احمد

 

ملک کی سولہ ریاستوں اور تین مرکزی حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کا عمل تیسرے مرحلے کے طور پر جاری ہے۔ جس میں ملک کی چھوٹی بڑی سبھی ریاستیں شامل ہیں۔ لیکن عوام میں جو خدشات اور خطرات پہلے سے تھے وہ ابھی بھی جوں کے توں برقرار ہیں۔ لیکن پھر بھی عوام خوف کے ساۓ میں ایس آئی آر کے عمل میں عوام حصہ لے رہی ہے۔ حالاں کہ بہار سے لے کر بنگال تک جو ایس آئی آر کا عمل ہوا ہے۔ اس کی غیر شفافیت اور اس کے طریقہ کار کو لے کر سیاسی پارٹیاں سماجی تنظیمیں و دیگر ماہرین نے ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک دروازہ کھٹکھٹایا ہے لیکن معمولی تبصروں اور سوالات کے درمیان ہی فیصلے گردش کرتے رہے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے بہار میں قریب 65 لاکھ اور بنگال میں 90 لاکھ راۓ دہندوں کو حذف کردیا گیا۔اور اترپردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست کی حیثیت سے اس کو ووٹرس حذف کرنے میں بھی بڑا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ جہاں دو کروڑ سے ذائد ووٹرس حذف کردیئے گئے۔ کل ملا کر پورے ملک میں ابھی تک پانچ کروڑ سے زائد ووٹرس کو حذف کردیا گیا۔دی ہندو کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اب تک پورے ملک (خصوصاً 12 سے 14 ریاستوں) میں تقریباً 5.18 سے 5.29 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے جا چکے ہیں۔

 

موجودہ جاری ایس آئی آر اور دی ہندو کی رپورٹ کے حوالے سے بات کی جاۓ تو ایسا لگ رہا ہے کہ پورے ملک میں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہونے تک دس سے بارہ کروڑ یا اس سے کچھ زائد ووٹرس حذف کیئے جانے کے امکانات ہیں۔ ایس آئی آر ہمارے ملک کا ایک لازمی سروے ہے لیکن اس بار جو ایس آئی آر ہورہا ہے جس سے بہت سارے خدشات پیدا ہوچکے ہیں۔ بلکہ اس سروے کے پورے عمل کے بعد یہ پتہ چل جاۓ گا کہ اس ایس آئی آر کا اہم مقصد کیا تھا۔ موجودہ ایس آئی آر عوام کے لیئے تشفی بخش بالکل بھی نہیں ہے۔ وہ اس لیئے کہ ایک تو ایس آئی آر کے طرقہ کار سے کوئی بھی مکمل طور پر اطمینان کا اظہار نہیں کرسکا۔ دوسرا جس غیر منظم انداز میں ایس آئی آر چل رہا ہے اس سے بھی عوام مطمئن نہیں ہے۔ وہ کیسے؟ اس کا جواب موجودہ ایس آئی آر کے دوران زمینی سطح پر خود دیکھنے کو مل رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بوتھ لیول آفیسر کو مقرر کیا ہے کہ وہ گھر گھر جاکر اینومریشن فارم بھریں۔ لیکن زمینی سطح پر یہ بی ایل او یہ کام ایک فیصد بھی نہیں کرسکے۔ دوسری بات جن کو بی ایل اوز کے طور پر مقرر کیا گیا ہے وہ خود اس قابل نہیں کہ ایس آئی آر فارم کے متعلق عوام کے خدشات کو دور کرتے ہوۓ فارم بھریں۔ لیکن بی ایل اوز تربیتی کلاسس لے کر بھی نہ ہی عوام کی کش مکش کو دور کررہے ہیں اور نہ عوام کے سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔

 

کئی جگہوں پر بی ایل اوز کو زبردستی ان کے اپنے علاقے میں بٹھاکر فارمس تقسیم کراۓ گئے۔ کہیں پر بی ایل اوز سے لڑائی جھگڑے بھی دیکھنے کو ملے۔ کہیں کہیں بی ایل اوز فون اٹھانے کو تک تیار نہیں ہے۔ تو کیا ہم اس ایس آئی آر کے عمل کو منظم ایس آئی آر کہیں گے یا غیر منظم؟ جب کہ عوام کی جان حلق میں اٹکی ہوئی ہے۔اور الیکشن کمیشن کی طرف سے مقرر کردہ بی ایل اوز انتہائی سست روی اور غیر تربیتی یافتہ کی طرح عوام سے سلوک کرر ہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ تمام بی ایل اوز ایسے ہی ہیں۔ لیکن بی ایل اوز کی اکثریت ایسی ہی ہیں۔ جنھیں خود پتہ نہیں کہ فارم کا طریقہ کار کیا ہے وہ کیا غیر تعلیم یافتہ افراد کو سمجھا پائیں گے۔ جب کہ اب تک زمینی صورت حال یہ ہے کہ ناخواندہ افراد کے ساتھ ساتھ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس ایس آئی آر کے فارم کو بھرنے سے ڈر رہے ہیں۔ لیکن ایسے میں ملت کی ملی تنظیمیں، سیاسی پارٹیاں سیاسی قائدین ،سماجی تنظیمیں خاص کر نوجوان پڑھا لکھا طبقہ سب مل کر کام کررہے ہیں۔ جس کے بعد سے عوام کو کچھ راحت مل رہی ہے۔

 

ایس آئی آر کے معاملے دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سارے افراد کو 2002 کی میاپنگ کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ جو الیکشن کمیشن کے غیر منظم ایس آئی آر کو پوری طرح سے عیاں کررہا ہے۔ گاؤں گاؤں شہر شہر اور محلوں میں ملت کا درد رکھنے والی بہت سی تنظیموں نے بہت سارے ہیلپ ڈیسک لگاۓ ہیں۔ باوجود اس کے فارم بھرتے دوران ہر گھر میں ہر ایک فارم کی اپنی الگ کہانی ہے۔ مثال کے طور پر کسی گھر میں والدین کا 2002 سے پہلے انتقال ہوچکا تھا۔ اور دادا دادی نانا نانی ان میں سے کسی کا بھی نام 2002 کے ایس آئی آر میں شامل نہیں ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ فرد اپنی میاپنگ کس سے کرے؟ حالاں کہ اس کا اپنا پورا خان دان موجود ہے۔ لیکن آخر کار اس کو بارہ دستاویزات میں سے ایک پیش کرنا ہوگا۔ اگر وہ نہیں کرسکا تو اس کی شہریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ایسے ہی کسی کے والد کے دو نام ہیں ووٹر آئی ڈی میں الگ ہے اور دوسرے دستاویزات میں الگ ہے لیکن وہ تمام دستاویزات رکھتے ہوۓ بھی اس کی شہریت مشکوک دائرے میں آجاۓ گی۔ ایسے ہی ہر گھر کی اپنی اپنی کہانی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جاۓ تو الیکشن کمیشن کا ایس آئی آر کرانے کا طریقہ کار سرے سے غلط ہے۔ دوسرا عوام اپنے تمام دستاویزات کو درست کرنے کے بجاۓ غفلت میں پڑی رہی۔ لیکن اگر یہ ایس آئی آر منظم انداز میں ہوتا تو بات ہی کچھ اور ہوتی۔ مگر یہ غیر منظم ایس آئی آر عوام کے لیئے وبال جان بن چکا ہے۔ لوگ اپنی تجارت کھانا پینا چھوڑ کر سب اس کام میں لگے ہوۓ ہیں۔ لیکن نہ سرکار کو عوام کی مشکلات نظر آرہی ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن کو ، عوام کو اتنا ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لیئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اور دیکھنا اس خصوصی نظر ثانی مہم کی بھی کچھ تو پردہ داری ہوگی۔

 

ابھی اقوم متحدہ نے بھارت میں ہورہے ایس آئی آر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اور حکومت ہند سے جواب طلب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے بھارتی حکومت سے سوال کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کے دوران اقلیتوں، خصوصاً مسلم اور بنگالی ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ اور یہ عمل بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات سے کس طرح مطابقت رکھتا ہے؟اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ انہیں ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق بنگالی اور مسلم ووٹر اس عمل سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے۔ متعدد متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ ان کے پاس درست شناختی دستاویزات موجود تھیں، اس کے باوجود ان کے نام ووٹر فہرست سے خارج کر دیے گئے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اقوم متحدہ کی اس تشویش سے حکومت ہند کو کچھ فرق پڑے گا؟ ہمارا ماننا ہے بالکل بھی نہیں کیوں کہ ماضی کے گیارہ سالوں میں اقوام متحدہ نے ایسے کئی بار تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لیکن کچھ بھی فرق نہیں پڑا تو بھلا اب کیا خاک پڑے گا۔ابھی دیکھئے الیکشن کمیشن نے فارم 6 میں ترمیم کرتے ہوۓ نئے ووٹرس کے اندراج کے لیئے ایس آئی آر کے 2002 سے میاپنگ کرنے کو لازم قرار دیا۔ جب کہ نئے ووٹرس کا ووٹر آئی ڈی بنانا اور ووٹ ڈالنا اس کا بنیادی حق ہے۔ لیکن اس کو ایس آئی آر سے جوڑا جارہا ہے جو سراسر نئے ووٹرس سے نا انصافی کے مترادف ہے۔ حالاں کہ آئینی طور الیکشن کمیشن کو کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی کوئی ترمیم کرسکے۔کیوں کہ فارم 6 ایک قانونی فارم ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم کا اختیار مرکزی حکومت کو حاصل ہے، جو وزارت قانون کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کرکے قواعد میں تبدیلی کرتی ہے۔ لیکن اس عمل میں آئینی اصولوں کو سرے سے فراموش کردیا گیا۔ اگر نئی ترمیم کے ساتھ دیکھا جاۓ تو کوئی نیا ووٹر ہے جس کا 2002 سے کسی بھی طرح کا میاپنگ عمل رک جاتا ہے تو وہ اپنا ووٹر آئی ڈی کبھی بھی نہیں بناسکتا۔ جب کہ وہ بھارتی شہری ہے۔ تو کیا ایسے فرد کو بھارتی شہری تسلیم نہیں کیا جاۓ گا ؟

 

اسی ایس آئی آر کے سخت شرائط سے ملک کی معصوم عوام کو راحت دلانے کے لیئے کرناٹک کی کانگریس سرکار نے اپنے شہریوں کو مستقل رہائشی سند یعنی پی آر سی نظام متعارف کرایا ہے۔ جس سے عوام کو یہ سند مل جاۓ گی کہ وہ اس ریاست کا شہری تھا اور مستقل رہے گا۔ اس اقدام کو ملک بھر میں سراہا جارہا ہے۔ اسی نظام کو متعارف کرانے کے لیئے مسلم قائدین مسلم ملی تنظیمیں تلنگانہ سرکار پر دباؤ بنا رہی ہے کہ تلنگانہ کی عوام کے لیئے بھی کرناٹک کی طرز پر مستقل رہائشی سند دیا جاۓ تاکہ عوام کو راحت مل سکے۔ اس دباؤ کے بعد تلنگانہ کانگریس سرکار کے مشیر محمد علی شبیر اس سلسلے میں بتایا کہ تلنگانہ میں ایک کابینہ ذیلی کمیٹی تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔ جو الیکشن کمیشن کی جانب سے تصدیق کے دوران قابل قبول دستاویزات کی فہرست میں ریاستی حکومت کے مجاز ادارے کی جانب سے جاری کردہ مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ بھی شامل ہے۔ اس لیے تلنگانہ حکومت کی جانچ کے بعد جاری کیا گیا پی آر سی مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ووٹر کی اہلیت ثابت کرنے کے لیے معاون ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو ایک مکتوب پیش کرتے ہوئے درخواست کی تھی کہ ریاست میں طویل عرصے سے مقیم افراد کے لیے حکومت کی جانب سے ایک معیاری مستقل رہائشی دستاویز جاری کی جائے، تاکہ انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران رہائش کے ثبوت سے متعلق مسائل کا سامنا کرنے والے ووٹروں کو سہولت مل سکے۔

 

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا تلنگانہ سرکار پی آر سی جاری کرے گی؟ اگر تلنگانہ سرکار یہ کام انجام دیتی ہے تو یہ بہت ہی خوش آئند اقدام ہوگا جو اپنے شہریوں کو بڑی راحت دینے کے مترادف کہلاۓ گا۔ لیکن اس کام میں خلل پیدا کرنے اور اکثریتی عوام کو گم راہ کرنے کے لیئے ریاست کی بی جے پی سرگرم ہوجاۓ گی۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا مطلب صاف ہے کہ موجودہ ایس آئی آر صرف اقلیتی طبقہ خاص طور پر مسلمانوں کو ہدف بناکر کیا جارہا ہے۔ واقعتاً ایسا ہی ہے لیکن جب بھاجپا کی طرف سے ردعمل آۓ گا تو یہ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد مسلمانوں کو نشانے پر رکھنا ہے۔ تاکہ اس ایس آئی آر کے زریعہ سے این آر سی کی خفیہ مہم چلائی جاۓ۔ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کی اس سازش کو تلنگانہ میں ناکام بنانے اور تلنگانہ میں فرقہ پرست سیاسی جماعت کو برسر اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیئے پی آر سی بہت ہی کارکرد ثابت ہوسکتا ہے۔ بلکہ سیکولرزم کی بقاء اور آئینی اقدار کو بھی تقویت پہنچے گی۔دیکھنا یہ ہے کہ تلنگانہ سرکار عوام کو راحت پہنچانے کے لیئے کیا اقدامات کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button