مضامین

قانون کا وقار یا اقتدار کا انتقام؟ — محمد علی جوہر یونیورسٹی پر بلڈوزر کیوں؟

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ

صدر نشین ال انڈیا علماء بورڈ ایجوکیشن ونگ حیدراباد , دکن 

 

محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کے انہدام کا فیصلہ صرف ایک تعلیمی ادارے کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ریاستی انصاف، قانونی تسلسل اور حکومتی ذمہ داری کا امتحان ہے۔ اگر واقعی تعمیرات قانون کی خلاف ورزی پر مبنی تھیں تو یقیناً قانون اپنا راستہ اختیار کرے، مگر قانون کا نفاذ انصاف کے ساتھ ہونا چاہیے، انتقام کے جذبے کے ساتھ نہیں۔

 

رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ 38 عمارتیں ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی گئی ہیں۔ دوسری طرف یونیورسٹی کا موقف یہ ہے کہ جب یہ عمارتیں تعمیر ہوئیں، اس وقت متعلقہ علاقہ اتھارٹی کے ماسٹر پلان اور دائرۂ اختیار میں شامل ہی نہیں تھا، اسی لیے ضلع پنچایت سے قانونی اجازت حاصل کی گئی تھی۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کئی برس بعد انہی عمارتوں کو غیر قانونی قرار دینے کی بنیاد کیا ہے؟

 

ریاست کا وقار اس میں نہیں کہ ہر آنے والی حکومت، جانے والی حکومت کے فیصلوں پر بلڈوزر چلا دے۔ ریاستوں کا نظام تسلسل سے چلتا ہے، سیاسی انتقام سے نہیں۔ اگر آج ماضی کی حکومتوں کے منظور شدہ اقدامات کو یکسر مسترد کیا جائے تو کل یہی اصول موجودہ حکومت کے فیصلوں پر بھی لاگو ہوگا۔ کیا اس وقت بھی انہی پیمانوں پر احتساب ہوگا؟ اگر نہیں، تو پھر قانون نہیں بلکہ طاقت بول رہی ہے۔

 

سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ ادارہ برصغیر کے عظیم مجاہدِ آزادی، بے باک صحافی، مدبر اور قوم پرست رہنما مولانا محمد علی جوہر کے نام سے منسوب ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، قانونی کارروائی اپنی جگہ، مگر اس قومی شخصیت کے نام اور اس تاریخی ورثے کا احترام بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی وجہ سے کارروائی ناگزیر بھی ہو، تو اس میں کم از کم اتنی سنجیدگی، وقار اور حساسیت ضرور ہونی چاہیے کہ ایک مجاہدِ آزادی کے نام سے وابستہ ادارے کی حرمت مجروح نہ ہو۔

 

جمہوریت کی اصل روح یہی ہے کہ قانون سب پر یکساں نافذ ہو، مگر انصاف بھی سب کو یکساں ملے۔ قانون اگر صرف مخالفین کے لیے تلوار اور حامیوں کے لیے ڈھال بن جائے تو عوام کے دلوں سے انصاف پر اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں بلڈوزر صرف عمارتیں نہیں گراتا، بلکہ ریاستی اداروں کی غیر جانبداری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ہے۔

 

یہ وقت جذبات سے نہیں بلکہ آئین، انصاف اور قومی شعور سے فیصلے کرنے کا ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر قانون، انصاف اور قومی ورثے کا احترام ہمیشہ قائم رہنا چاہیے۔ یہی ایک مضبوط جمہوریت اور مہذب ریاست کی پہچان ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button