جنرل نیوز

جس بیت المقدس کو آج امت آزاد نہ کرا سکی، اسے حضرت عمرؓ نے فتح فرمایا: حج ہاؤز نامپلی کے اجتماع سے مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب 

جس بیت المقدس کو آج امت آزاد نہ کرا سکی، اسے حضرت عمرؓ نے فتح فرمایا: حج ہاؤز نامپلی کے اجتماع سے مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

 

حیدرآباد، 12 جون (پریس ریلیز):خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد میں منعقدہ ایک عظیم الشان اور کثیر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی عظمت صرف زمانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔ سیدنا امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی انہی عظیم المرتبت ہستیوں میں شامل ہیں جن کی عدالت، دیانت، شجاعت، تقویٰ اور خدمتِ خلق کا اعتراف صرف زمین والوں نے ہی نہیں بلکہ آسمانوں نے بھی کیا۔

 

انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز ان ایمان افروز اشعار سے کیا:

“عدالت میں تیرا نام رہے گا، دنیا کی عدالت میں تیرا نام رہے گا

فاروق! تیرے نام سے اسلام رہے گا”

 

مولانا نے کہا کہ محرم الحرام اسلامی تاریخ کے دو عظیم اور روشن ابواب کا امین ہے۔ یکم محرم ہمیں شہیدِ محراب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی یاد دلاتا ہے جبکہ دس محرم نواسۂ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانی کا پیغام سناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو خاص طور پر سیرتِ فاروقی سے روشنی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

 

 

انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اُن خوش نصیب ہستیوں میں سے ہیں جنہیں “مرادِ مصطفیٰ ﷺ” ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائی تھی کہ “اے اللہ! عمر بن خطاب یا ابوجہل میں سے جسے تو پسند فرمائے، اس کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔” چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی دعا قبول فرمائی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لے آئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “عمر کا اسلام لانا فتحِ اسلام، ان کی ہجرت نصرتِ اسلام اور ان کی خلافت اللہ کی رحمت تھی۔”

 

مولانا قادری نے کہا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فراست، بصیرت اور قربِ الٰہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ متعدد مواقع پر ان کی رائے کے مطابق قرآنِ کریم کی آیات نازل ہوئیں جنہیں علماء نے “موافقاتِ عمر” کے عنوان سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے مقامِ ابراہیم کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیا جائے، جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: “وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى”۔

 

انہوں نے حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسجد نبوی میں خطبۂ جمعہ کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اچانک فرمایا: “یا ساریۃ الجبل!” اور بعد میں معلوم ہوا کہ میدانِ جنگ میں موجود حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ نے اسی آواز کو سن کر اپنی فوج کو پہاڑ کی طرف منتقل کیا جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نیک بندوں کو عطا کردہ کرامت اور بصیرت کی روشن مثال ہے۔

مولانا نے کہا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ صرف ایک فاتح حکمران نہیں تھے بلکہ عدل و انصاف کا ایسا مینار تھے جس کی روشنی آج بھی دنیا کو راستہ دکھا رہی ہے۔ انہوں نے بیت المقدس کی فتح کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جس بیت المقدس کو آج پوری امتِ مسلمہ آزاد نہیں کرا سکی، اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں فتح فرمایا۔ انہوں نے بتایا کہ جب آپ بیت المقدس تشریف لے گئے تو ایک ہی اونٹ تھا جس پر آپ اور آپ کا غلام باری باری سوار ہوتے تھے، اور بیت المقدس کے قریب سواری کی باری غلام کی تھی جبکہ امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ اونٹ کی مہار پکڑ کر پیدل چل رہے تھے۔ یہ وہ عدل اور انکساری تھی جس نے دنیا کی سپر طاقتوں کو جھکا دیا۔

انہوں نے قیصرِ روم کے وفد کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب وفد مدینہ منورہ آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا تو وہ مسجد نبوی کے قریب ایک درخت کے سائے میں آرام فرما رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر وفد بے اختیار پکار اٹھا: “آپ نے عدل کیا، اس لیے امن پایا اور سکون سے سو گئے۔”

 

مولانا قادری نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمتِ خلق اور احساسِ ذمہ داری کا تذکرہ کرتے ہوئے اس مشہور واقعہ کو بیان کیا کہ رات کے وقت گشت کے دوران آپ نے بھوکے بچوں کے رونے کی آواز سنی۔ جب معلوم ہوا کہ ایک ماں بچوں کو بہلانے کے لیے خالی ہانڈی میں پانی گرم کر رہی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود بیت المال گئے، آٹا اور دیگر سامان اپنے کندھوں پر اٹھا کر لائے، کھانا تیار کیا اور بچوں کو کھلایا۔ جب غلام نے بوجھ اٹھانے کی پیشکش کی تو آپ نے فرمایا: “کیا قیامت کے دن بھی میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟”

 

انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی سادگی، تقویٰ اور خوفِ خدا کا عملی نمونہ تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے: “اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔”

 

خطاب کے اختتام پر مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت یکم محرم 24 ہجری کو ہوئی، لیکن ان کا عدل، تقویٰ، شجاعت اور خدمتِ انسانیت کا پیغام آج بھی دنیا کے حکمرانوں اور مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو سیرتِ فاروقی سے سبق حاصل کرنے، عدل و انصاف کو اپنانے اور دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button