سات دن سے جنگل میں لاپتہ دو سالہ معصوم، پالتو کتا واپس لوٹ آیا مگر بچی کا کوئی سراغ نہیں؛ اب کتا ہی سب سے بڑا ثبوت، گلے میں جی پی ایس ٹریکر باندھ دیا گیا
کاکیناڈا: ضلع کاکیناڈا کے تونی منڈل میں دو سالہ بچی گیانیشوری کی پراسرار گمشدگی کا معاملہ روز بروز پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ بچی کے لاپتہ ہوئے سات دن گزر چکے ہیں، تاہم اب تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، جس کے باعث والدین اور مقامی دیہاتی شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ اس دوران تفتیش میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے
، جہاں بچی کے ساتھ جانے والے پالتو کتے کو اہم سراغ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پولیس نے کتے کو جی پی ایس ٹریکر لگا کر اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بچی تک پہنچنے میں مدد مل سکے۔
اطلاعات کے مطابق تونی منڈل کی دونڈاواکا پنچایت کے سی ایچ اگرہام کے قریب واقع 50 ایکڑ پر مشتمل پام آئل کے باغ میں گنیش اور بھوانی میاں بیوی بطور نگراں کام کرتے ہیں۔ ان کی دو سالہ بیٹی گیانیشوری گزشتہ ہفتہ کی صبح اپنے پالتو کتے کے ساتھ قریبی جنگل کی جانب گئی تھی۔ جب کافی دیر تک وہ واپس نہ لوٹی تو والدین نے اطراف کے علاقوں میں تلاش شروع کی، لیکن بچی کا کوئی پتہ نہ چل سکا۔ بعد ازاں شام کے وقت پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔
شکایت ملنے کے بعد تقریباً 200 پولیس اہلکاروں نے 500 ایکڑ پر محیط جنگلاتی اور پہاڑی علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم چلائی، تاہم بچی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس دوران منگل کی دوپہر بچی کے ساتھ جانے والا کتا واپس باغ میں پہنچ گیا، لیکن بچی اس کے ساتھ نہیں تھی، جس سے والدین کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔
پولیس کے مطابق واپس آنے والا کتا وہاں موجود پولیس اور دیگر افراد کو دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا اور دوبارہ جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ اسے پکڑنے کے لیے پولیس نے کافی کوششیں کیں، جس کے بعد اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے چند نوجوانوں نے مہارت کے ساتھ کتے کو قابو میں لیا۔
فی الحال کتا خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار بتایا جا رہا ہے، جسے معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ بچی کے والدین بھی اسے مانوس کرنے میں مصروف ہیں۔
پولیس نے حیدرآباد سے خصوصی طور پر جی پی ایس ٹریکر منگوا کر کتے کے گلے میں نصب کیا ہے۔ حکام کو امید ہے کہ کتے کے آنے جانے کے راستوں کا تجزیہ کرکے بچی کے بارے میں اہم سراغ حاصل ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب پولیس اس پہلو سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا بچی واقعی جنگل میں راستہ بھٹک گئی یا پھر اسے کسی نے اغوا کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں اطراف کے دیہات میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ مشتبہ افراد اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
ادھر بچی کی والدہ بھوانی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے شوہر کے بعض دوست اس واقعے میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ ان کی بیٹی جنگل میں موجود ہوگی، بلکہ کسی نے اسے اپنے ساتھ لے لیا ہے۔ بھوانی کے مطابق ماضی میں ان کے شوہر کے بعض افراد سے تنازعات ہوئے تھے اور ممکن ہے کہ انہی رنجشوں کی بنیاد پر ان کی بیٹی کو اغوا کیا گیا ہو۔
آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ انہوں نے اپیل کی، ’’اگر ہم سے کوئی شکایت یا مسئلہ ہے تو براہِ راست ہم سے بات کیجئے، لیکن میری معصوم بچی کے ساتھ ناانصافی نہ کی جائے۔ میری بیٹی کو بحفاظت واپس لے آئیں۔‘‘
اس پراسرار معاملے نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے، جبکہ پولیس مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔




