ہیلت

16 اقسام کی اسکن کیئر کریمس، اینٹی بایوٹکس اور پین کلر ادویات پر مرکز کی پابندی

نئی دہلی: عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مرکزی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے انسانی استعمال کے لیے تیار کی جانے والی 16 اقسام کی فکسڈ ڈوز کامبینیشن ادویات کی تیاری، فروخت، تقسیم اور سپلائی پر فوری اثر کے ساتھ

 

پابندی عائد کر دی ہے۔مرکزی وزارتِ صحت کے مطابق ان ادویات سے علاج کے اعتبار سے کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا جبکہ ان کے ممکنہ نقصانات فوائد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ مریضوں کے تحفظ کو

 

یقینی بنانے اور صرف سائنسی طور پر مؤثر اور تصدیق شدہ ادویات کی دستیابی کے مقصد سے یہ سخت اقدام کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کی ہدایات پر قائم کردہ ماہرین کی کمیٹی جو ڈرگس ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ کے تحت تشکیل دی گئی

 

تھی اس نے ان ادویات میں استعمال ہونے والے مختلف مرکبات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ بعض دواؤں میں شامل ڈرگ کامبینیشن غیر موزوں اور صحت کے لیے نقصان دہ ہیں جس کے بعد مرکزی حکومت نے ڈرگس اینڈ

 

کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کی دفعہ 26A کے تحت باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ان پر پابندی نافذ کر دی۔پابندی عائد کی گئی ادویات میں بعض اسکن کیئر کریمس، درد سے راحت دینے والی گولیاں، پیٹ درد کی دوائیں اور چند اقسام کی

 

اینٹی بایوٹکس شامل ہیں۔ ممنوعہ ادویات میں ایسٹائل سیلیسیلک ایسڈ اور ایتوہیپٹازین، ڈائسائیکلومائن، پیراسیٹامول اور کلیڈینیم برومائیڈ، گلیکلازائیڈ اور کرومیم پیکولینیٹ، نیز پیراسیٹامول اور لِگنوکین کے امتزاج پر مشتمل دوائیں شامل

 

ہیں۔اسی طرح اموکسی سلین، سیراٹیوپیپٹیڈیز اور لیکٹو بیسیلس اسپوروجینز پر مشتمل بعض اینٹی بایوٹک کامبینیشنز پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔مرکزی حکومت نے بعض اسکن کیئر کریمس کو بھی ممنوعہ فہرست میں شامل کیا ہے

 

جن میں وٹامن ای، جوجوبا آئل، ٹی ٹری آئل اور ایلوویرا پر مشتمل مخصوص مصنوعات شامل ہیں۔وزارتِ صحت نے تمام ریاستی ڈرگ کنٹرولرز اور متعلقہ نفاذی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ ملک بھر میں اس پابندی پر سختی سے

 

عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو غیر مؤثر یا ممکنہ طور پر نقصان دہ ادویات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button