نیشنل

جیل میں قید علی اور عمر کو ابان کی تدفین میں شرکت کی اجازت دی جائے: مرحوم عتیق احمد کے بڑے بیٹے احضم احمد کی حکومت سے درخواست

لکھنو : سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے سب سے چھوٹے بیٹے آبان کی جمعرات کو سڑک حادثے میں موت کے بعد پورا خاندان غم میں ڈوب گیا۔ اطلاع ملتے ہی عتیق کا بڑا بیٹا احضم احمد جھانسی میڈیکل کالج پہنچا۔ وہاں چھوٹے بھائی کی نعش دیکھ کر وہ زار و قطار رونے لگا۔

 

عتیق احمد کے پانچ بیٹوں میں سے ایک، اسد، پہلے ہی امیش پال قتل کیس کے بعد پولیس انکاؤنٹر میں مارا جا چکا ہے، جبکہ اب آبان بھی اس دنیا میں نہیں رہا۔ دو بھائی، علی اور عمر، مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ والد عتیق احمد اور چچا اشرف پہلے ہی قتل کیے جا چکے ہیں جبکہ والدہ شائستہ پروین مفرور ہیں۔ ایسے میں احضم احمد خود کو بالکل تنہا محسوس کر رہا ہے۔

 

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے احضم نے حکومت سے اپیل کی کہ جھانسی جیل میں بند بھائی علی احمد اور لکھنؤ جیل میں بند عمر احمد کو آبان کی تدفین میں شرکت کی اجازت دی جائے۔

 

حادثے میں آبان کے ساتھ اس کا ایک دوست سونو بھی ہلاک ہو گیا، جبکہ کار میں سوار تین دیگر نوجوان شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو جھانسی میڈیکل کالج منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے فوری علاج شروع کر دیا۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد آبان اور سونو کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئیں۔

 

احضم احمد نے بتایا کہ آبان جمعرات کی صبح اپنے چار دوستوں کے ساتھ پریاگ راج سے جھانسی جیل میں قید اپنے بھائی علی سے ملاقات کے لیے روانہ ہوا تھا، لیکن راستے میں المناک حادثہ پیش آ گیا۔ جائے حادثہ سے جھانسی جیل کا فاصلہ صرف تقریباً 80 کلومیٹر رہ گیا تھا اور دونوں بھائیوں کی ملاقات ادھوری رہ گئی۔

 

واضح رہے کہ علی احمد کو 2022 میں رنگداری اور جان لیوا حملے کے ایک مقدمے میں گرفتار کر کے پہلے نینی سینٹرل جیل بھیجا گیا تھا، بعد میں جیل کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے معاملے میں اسے جھانسی جیل منتقل کر دیا گیا۔ علی پر امیش پال قتل کیس کی سازش میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔

 

امیش پال قتل کیس کے بعد عتیق احمد کا خاندان مسلسل بکھرتا چلا گیا۔ پہلے بیٹا اسد پولیس انکاؤنٹر میں مارا گیا، پھر عتیق احمد اور اس کے بھائی اشرف کو پولیس حراست میں قتل کر دیا گیا۔ شائستہ پروین اب بھی مفرور ہیں، جبکہ اب سب سے چھوٹے بیٹے آبان کی بھی حادثے میں موت ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button