حضرت امام حسینؓ کی محبت، محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا اور نوجوان نسل کی صحیح رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری”

حضرت امام حسینؓ کی محبت، محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا اور نوجوان نسل کی صحیح رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری”
حیدرآباد، 24 جون (پریس ریلیز):
گورنمنٹ ہائی اسکول دارالشفاء، حیدرآباد کے طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے شعبۂ عربی، محکمۂ تعلیم حکومتِ تلنگانہ کے استاد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ ماہِ محرم الحرام اور واقعۂ کربلا کا پیغام ایمان، محبتِ اہلِ بیت اطہارؓ، تعظیمِ رسالت ﷺ، صبر و استقامت اور حق و صداقت پر ثابت قدمی کا عظیم درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید نے واضح طور پر تنبیہ فرمائی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچاتے ہیں ان کے لیے دنیا و آخرت میں لعنت اور رسوائی ہے، اور جو اہلِ ایمان کو ناحق تکلیف دیتے ہیں وہ بہتان اور کھلے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ بیت اطہارؓ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اور حضرت امام حسینؓ سے محبت دراصل حضور اکرم ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے، کیونکہ آپؓ نواسۂ رسول ﷺ، جگر گوشۂ سیدہ فاطمۃ الزہراؓ اور اہلِ بیت نبوی کے روشن چراغ ہیں۔ آپؓ کی حیاتِ مبارکہ، صبر، استقامت، ایثار، قربانی اور حق پر ثابت قدمی ہر دور کے انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، جبکہ واقعۂ کربلا ظلم و باطل کے مقابلے میں حق، عدل، حوصلے اور اصول پسندی کی لازوال علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخِ اسلام کے بعض حقائق ایسے ہیں جنہیں امت نے صدیوں سے عقیدت اور احترام کے ساتھ قبول کیا ہے، مگر موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے بعض عناصر غیر مستند اور گمراہ کن معلومات پھیلا کر نوجوان نسل کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے نئی نسل تک صحیح، مستند اور معتدل دینی تعلیمات پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے طلبہ و طالبات کو خصوصی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے والدین، اساتذہ اور بزرگوں کا احترام کریں، نماز کی پابندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، وقت کی قدر کریں، جھوٹ، غیبت، بدزبانی، موبائل اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بچیں اور ہمیشہ سچائی، دیانت اور حسنِ اخلاق کو اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب طالب علم وہ ہے جو علم کے ساتھ کردار کی پاکیزگی اور اخلاق کی بلندی کو بھی اپنائے۔
انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر بات کو بلا تحقیق قبول نہ کریں، بلکہ قرآن و سنت، مستند علماء اور اہلِ علم کی رہنمائی کی روشنی میں حقائق کو جاننے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو نفرت، فرقہ واریت، تعصب اور اشتعال انگیزی سے دور رہتے ہوئے باہمی احترام، اخوت، رواداری اور محبت کے جذبے کو فروغ دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی ادارے صرف نصابی تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور قومی و دینی شعور کی آبیاری کے مراکز ہیں۔ طلبہ و طالبات کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم پر توجہ دیں، اچھے دوستوں کا انتخاب کریں، منشیات، فحاشی، بے راہ روی اور بری صحبت سے خود کو محفوظ رکھیں، کیونکہ آج کے بچے ہی کل کے ذمہ دار شہری اور ملت کے معمار ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اہلِ بیت اطہارؓ، ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت و تعظیم ایمان کی روح ہے، اور مسلمانوں کو اتحاد، اعتدال، بھائی چارے اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعے اپنے دین و تہذیب کی حفاظت کرتے ہوئے ایک صالح اور پرامن معاشرہ کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔



